Bharat Express DD Free Dish

AI Content New Rules India: ڈیپ فیک کے خلاف حکومت کا بڑا وار، گمراہ کن اے آئی ویڈیوز تین گھنٹے میں ہٹانا لازمی، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

ملک میں تیزی سے پھیلتے ڈیپ فیک ویڈیوز، جعلی آڈیو کلپس اور اے آئی سے تیار کی گئی گمراہ کن تصاویر پر لگام کسنے کے لیے حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی حکومت نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کے حوالے سے نئے قواعد نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نئے ضوابط 20 فروری 2026 سے پورے ملک میں نافذ ہوں گے۔

نئی دہلی: ملک میں تیزی سے پھیلتے ڈیپ فیک ویڈیوز، جعلی آڈیو کلپس اور اے آئی سے تیار کی گئی گمراہ کن تصاویر پر لگام کسنے کے لیے حکومت نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی حکومت نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کے حوالے سے نئے قواعد نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت ایسے تمام ویڈیوز اور تصاویر کو واضح طور پر لیبل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ نئے ضوابط 20 فروری 2026 سے پورے ملک میں نافذ ہوں گے۔

گزشتہ کچھ عرصے میں سوشل میڈیا پر ایسے ڈیپ فیک ویڈیوز اور مورف تصاویر کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جو دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ عام صارفین کے لیے یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا مواد اصلی ہے اور کون سا مصنوعی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے مواد سے نہ صرف افراد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے ”سنتھیٹک کنٹینٹ“ کی واضح تعریف شامل کی ہے۔ اس میں وہ تمام ویڈیوز، تصاویر اور آڈیو شامل ہوں گے جو اے آئی یا دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس انداز میں تیار کیے جائیں کہ وہ حقیقت کا گمان دیں۔ نئے قواعد کے تحت اگر کوئی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو یا تصویر جعلی، گمراہ کن یا اشتعال انگیز پائی جاتی ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ڈیجیٹل اداروں کو اسے تین گھنٹے کے اندر ہٹانا لازمی ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تاخیر کی صورت میں ایسا مواد تیزی سے وائرل ہو کر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، پلیٹ فارمز پر یہ بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اے آئی سے تیار شدہ مواد پر واضح لیبل لگائیں، تاکہ صارفین کو پہلے ہی معلوم ہو سکے کہ یہ کنٹینٹ مصنوعی ہے۔ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پلیٹ فارم اور مواد تیار کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدامات ڈیجیٹل دنیا میں شفافیت بڑھانے اور عوام کو گمراہ کن معلومات سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ڈیپ فیک کے بڑھتے خطرے پر قابو پانے کی سمت ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read