Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Expo 2026: پہلے دن 20 سے زائد سربراہان مملکت، 60 وزراء اور 500 عالمی اے آئی ماہرین کی شرکت، ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کا نئی دہلی میں آغاز

مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز نئی دہلی میں ہوگیا۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں پہلے ہی دن 20 سے زائد سربراہان مملکت اور حکومت، 60 وزراء و نائب وزراء اور 500 سے زیادہ عالمی اے آئی ماہرین نے شرکت کی، جس سے اس سمٹ کی عالمی اہمیت واضح ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز نئی دہلی میں ہوگیا۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں پہلے ہی دن 20 سے زائد سربراہانِ مملکت اور حکومت، 60 وزراء و نائب وزراء اور 500 سے زیادہ عالمی اے آئی ماہرین نے شرکت کی، جس سے اس سمٹ کی عالمی اہمیت واضح ہوگئی ہے۔ یہ بین الاقوامی اجلاس 20 فروری تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا بھر سے سرکاری وفود، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان، صنعت کار، محققین، ماہرین تعلیم اور کثیرالجہتی اداروں کے نمائندگان شریک ہو رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق 100 سے زائد سرکاری نمائندے اس سمٹ کا حصہ ہیں، جن میں بڑی تعداد میں ترقی پذیر ممالک کے قائدین بھی شامل ہیں۔

سمٹ کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایسے استعمالات پر غور و خوض کرنا ہے جو جامع ترقی، مضبوط عوامی نظام اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنا سکیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اے آئی پر مرکوز یہ پہلا عالمی اجلاس ہے جو گلوبل ساؤتھ میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو عالمی ٹیکنالوجی مباحثے میں مؤثر آواز ملنے کی توقع ہے۔ 19 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی سمٹ سے خطاب کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کا خطاب عالمی اشتراکِ عمل، ذمہ دارانہ اے آئی پالیسی اور بھارت کے جامع ترقی کے وژن کو نئی سمت دے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت ذمہ دار اور انسان دوست اے آئی کے فروغ کے لیے عالمی رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

سمٹ کی نمایاں خصوصیات میں تین بڑے گلوبل امپیکٹ چیلنجز شامل ہیں، جن میں “اے آئی فار آل”، “اے آئی بائی ہر” اور “یووائی” شامل ہیں۔ ان مقابلوں کا مقصد ایسی جدید اے آئی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ہے جو سماجی شمولیت، صنفی مساوات اور نوجوانوں کی شراکت کو تقویت دیں۔ ان چیلنجز کے لیے 60 سے زائد ممالک سے 4,650 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جو عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی اے آئی شناخت کا ثبوت ہیں۔ کئی مرحلوں پر مشتمل جانچ کے بعد تینوں زمروں میں مجموعی طور پر 70 ٹیموں کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں 16 اور 17 فروری کو بھارت منڈپم اور سشما سوراج بھون میں اپنے حل پیش کریں گی۔ انہیں پالیسی سازوں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ماہرین تعلیم سے براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

18 فروری کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی حیدرآباد کے اشتراک سے ”اے آئی اور اس کا اثر“ کے موضوع پر ایک تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد ہوگا۔ اس کے لیے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سے تقریباً 250 تحقیقی مقالے موصول ہوئے ہیں۔ اس اجلاس میں اسٹونیا کے صدر ایلر کیریس اور مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو سمیت عالمی ماہرین شرکت کریں گے۔ سمپوزیم میں اے آئی پر مبنی سائنسی تحقیق، سلامتی و ضابطہ جاتی ڈھانچے، کمپیوٹنگ وسائل تک مساوی رسائی اور گلوبل ساؤتھ ممالک کے درمیان تحقیقی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ سمٹ مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کی سمت متعین کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read