واٹس ایپ پر بھیجے گئے وائس نوٹس اب صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہیں گے، بلکہ ان کے ذریعے ڈپریشن جیسی ذہنی بیماری کی شناخت بھی ممکن ہو سکے گی۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ماڈل تیار کیا ہے، جو صرف آواز کی ریکارڈنگ سن کر انسان کی ذہنی صحت کے بارے میں اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں معروف سائنسی جریدے PLOS Mental Health میں ایک تحقیق شائع ہوئی ہے۔
یہ تحقیق برازیل کے محقق وکٹر ایچ او اوٹانی کی قیادت میں کی گئی، جس میں سامنے آیا کہ یہ اے آئی ماڈل خواتین میں ڈپریشن کے معاملات کو تقریباً 92 فیصد درستگی کے ساتھ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ مردوں کے معاملے میں اس کی درستگی 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ تحقیق کے مطابق اس ماڈل کو صرف ایک مختصر وائس ریکارڈنگ درکار ہوتی ہے، جس میں کوئی شخص اپنی روزمرہ زندگی یا معمولات کے بارے میں عام گفتگو کر رہا ہو۔
ماہرین کے مطابق ڈپریشن کی حالت میں انسان کے بولنے کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں آ جاتی ہیں، جیسے بولنے کی رفتار، آواز کی پچ اور توانائی میں کمی یا فرق۔ یہ اے آئی ماڈل انہی باریک تبدیلیوں کو تجزیے کے ذریعے آسانی سے پکڑ لیتا ہے اور ممکنہ ڈپریشن کی نشاندہی کر دیتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے فوائد عالمی سطح پر خاصے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک اور دور دراز علاقوں میں، جہاں ماہرِ نفسیات تک رسائی مشکل یا مہنگی ہوتی ہے، یہ ٹیکنالوجی ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ذہنی صحت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے کئی افراد بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی ماڈل ڈاکٹروں کا متبادل نہیں بن سکتا، قابل ذکربات یہ ہےکہ یہ ایک سستا، آسان اور مؤثر اسکریننگ ٹول ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی پیچیدہ یا پریشان کن عمل کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ایک وائس نوٹ ریکارڈ کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
