Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سمیر جین نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کے بعد اب ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی عرضی کی سماعت سے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس عرضی کو سماعت کے لیے کسی دوسری بینچ کے سامنے پیش کیا جائے۔

عبداللہ اعظم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سندریش نے انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ٹرائل کورٹ پر بھروسہ کیجیے۔ معاملے کو ٹرائل کورٹ میں ہی طے ہونے دیجیے۔ اب جبکہ ٹرائل مکمل ہو چکا ہے، ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔‘‘

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آرمس ایکٹ کے تحت دی گئی دس سال کی سزا کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ اور مقدمات کی طرح سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا اور ان کے اوپر سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام بھی ختم ہوجائے گا ان شاء اللہ۔ بتا دیں کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کیا ہے۔

اترپردیش کے بریلی  میں جے ای منوج یادو نے بتایا کہ نوٹس کے بعد ایک یاد دہانی بھی بھیجی گئی تھی، لیکن غیر قانونی تعمیرات کو نہیں ہٹایا گیا۔

ناگیشور مشرا نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سیشنز کورٹ میں نظرثانی کی عرضی دائر کی، جو 21 جولائی 2025 کو منظور کر لی گئی، اور عدالت نے اے سی جے ایم کو مقدمہ دوبارہ سننے کا حکم دیا۔

عمر انصاری اس وقت کاسگنج جیل میں قید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ افشاں انصاری کے فرضی دستخط کر کے جائیداد کے دستاویزات میں دھوکہ دہی کی۔

اشتعال انگیز تقریر کیس میں عمر پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ یہ کیس 3 مارچ 2022 کا ہے، جب مؤ صدر کے امیدوار عباس انصاری نے مبینہ طور پر اتر پردیش اسمبلی انتخابی مہم کے دوران ایک عوامی میٹنگ میں سرکاری افسران کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔ اس مقدمے میں عمر کا نام بھی آیا تھا، جسے مؤ کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے یہ بھی کہا کہ عمرانصاری کیس کی پیروی کررہے تھے اورضمنی الیکشن میں امیدوارہوسکتے تھے، اس لئے ان کوگرفتارکرلیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منصوبہ بند طریقے سے عباس انصاری کوسزا دلائی گئی ہے۔

عدالت نے عباس کو 2 سال قید اور 3000 روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عباس ایم پی ایم ایل اے عدالت کے فیصلے کے خلاف ضلعی عدالت بھی گئے، جہاں سے ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جس کے بعد وہ ہائی کورٹ پہنچے۔

جسٹس ورما نے اس پر وضاحت دی کہ ان کے پاس ایسی کوئی نقدی نہیں تھی اور یہ سب ان کو سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 مارچ کو انہیں دہلی سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔