Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court

عمر انصاری اس وقت کاسگنج جیل میں قید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ افشاں انصاری کے فرضی دستخط کر کے جائیداد کے دستاویزات میں دھوکہ دہی کی۔

اشتعال انگیز تقریر کیس میں عمر پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ یہ کیس 3 مارچ 2022 کا ہے، جب مؤ صدر کے امیدوار عباس انصاری نے مبینہ طور پر اتر پردیش اسمبلی انتخابی مہم کے دوران ایک عوامی میٹنگ میں سرکاری افسران کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔ اس مقدمے میں عمر کا نام بھی آیا تھا، جسے مؤ کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے یہ بھی کہا کہ عمرانصاری کیس کی پیروی کررہے تھے اورضمنی الیکشن میں امیدوارہوسکتے تھے، اس لئے ان کوگرفتارکرلیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منصوبہ بند طریقے سے عباس انصاری کوسزا دلائی گئی ہے۔

عدالت نے عباس کو 2 سال قید اور 3000 روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عباس ایم پی ایم ایل اے عدالت کے فیصلے کے خلاف ضلعی عدالت بھی گئے، جہاں سے ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جس کے بعد وہ ہائی کورٹ پہنچے۔

جسٹس ورما نے اس پر وضاحت دی کہ ان کے پاس ایسی کوئی نقدی نہیں تھی اور یہ سب ان کو سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 مارچ کو انہیں دہلی سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔

داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کو دہلی کی رہائش گاہ سے نقدی کی وصولی کے معاملے میں بدعنوانی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپر ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدارمیں جلے ہوئے کرنسی نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

الہ آباد ہائی کورٹ سے سنبھل جامع مسجد کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو ضمانت مل گئی ہے۔ جسٹس سمیرجین کی سنگل بینچ نے ضمانت عرضی کو منظوری دی ہے۔ 23 مارچ 2025 کو پولیس نے تفتیش کے دوران ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔

بھدوہی تھانہ علاقے میں ایس پی ایم ایل اے زاہد بیگ کے خلاف 13 ستمبر 2024 کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ 9 ستمبر 2024 کو ایم ایل اے کے گھر کے ایک بند کمرے میں ایک نابالغ لڑکی کی لاش مشتبہ طور پر ملی تھی۔ لڑکی کی موت ایک روز قبل ہوئی تھی۔

اترپردیش حکومت کوہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے 5000 پرائمری اسکولوں کے انضمام کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی درخواستیں خارج کردیں۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ قدم وسائل کے بہتراستعمال اورتعلیم کے معیارمیں بہتری کے لئے اٹھایا گیا ہے، جسے عدالت نے ایک پالیسی سمجھا اوراسے درست قراردیا۔

گیان واپی مسجد کیس کی آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ شرنگارگوری کیس کی اہم درخواست گزارراکھی سنگھ کی جانب سے عدالت میں سول نظرثانی کی درخواست دائرکی گئی ہے۔ اس عرضی میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے گیان واپی کمپلیکس میں واقع وضوخانہ کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔