Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ٹرائل کورٹ درخواست گزار کی عرضی پر قانون کے مطابق غور کرتے ہوئے فیصلہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے افضال انصاری کو 15 دن کے اندر ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔

راہل گاندھی کوالہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے ان کے مبینہ ملک مخالف بیان کے الزام میں ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کردی ہے۔ یہ تنازعہ 15 جنوری 2025 کوراہل گاندھی کے ذریعہ دیئے گئے ایک بیان سے شروع ہوا تھا۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں مدرسوں کی جانچ کے معاملے پر این ایچ آر سی کی کارکردگی پر سخت اور تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں تو انسانی حقوق کمیشن خاموش نظر آتا ہے، لیکن مدرسوں کی جانچ کے معاملے میں غیر معمولی سختی اختیار کی جاتی ہے، جو قابل تشویش ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس راجیو لوچن شکلا کی سنگل بینچ نے کی، جہاں دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے گئے۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خلاف دوہری شہریت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ہدایت پرکی جائے گی۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کے بعد مزید قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزاروں نے بہرائچ کے ایک پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آرکومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ایف آئی آرکے تحت یہ الزام لگایا گیا تھا کہ درخواست گزار اور دیگر لوگوں نے شکایت کنندہ کی 18 سالہ بیٹی کو لالچ دے کر اغوا کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ درخواست گزار اسے مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔

کیش اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کارروائی سے پہلے ہی انہوں نے استعفیٰ دے کر سب کو حیران کر دیا۔

عدالت کو حلف نامے اور شواہد کے ذریعے بتایا گیا کہ نجی ملکیت پر روزانہ 50 سے 60 افراد نماز کے لیے جمع ہو رہے تھے، جس سے علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق تھا۔