Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خلاف دوہری شہریت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ہدایت پرکی جائے گی۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کے بعد مزید قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزاروں نے بہرائچ کے ایک پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آرکومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ایف آئی آرکے تحت یہ الزام لگایا گیا تھا کہ درخواست گزار اور دیگر لوگوں نے شکایت کنندہ کی 18 سالہ بیٹی کو لالچ دے کر اغوا کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ درخواست گزار اسے مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔

کیش اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کارروائی سے پہلے ہی انہوں نے استعفیٰ دے کر سب کو حیران کر دیا۔

عدالت کو حلف نامے اور شواہد کے ذریعے بتایا گیا کہ نجی ملکیت پر روزانہ 50 سے 60 افراد نماز کے لیے جمع ہو رہے تھے، جس سے علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق تھا۔

عدالت نے کہا کہ اگر دو بالغ افراد اپنی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شادی شدہ مرد کا کسی بالغ خاتون کے ساتھ رہنا بذات خود جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

اویمکتیشورانند سرسوتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین پر توجہ نہ دیں۔ جھوٹ ہمیشہ ہارتا ہے اور سچ ہمیشہ جیتتا ہے۔ جو بھی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے اس اصول کو اپنانا چاہیے کہ میں سچ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، آخر کار جیت سچ کی ہوگی۔

الہ آباد ہائی  نے سنبھل میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے ڈی ایم اور ایس پی کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کریں۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ آپ نے جو بات کہی ہے، وہ ایسی ہے کہ یا تو استعفیٰ دیں یا پھر تبادلہ لے لیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش انتظامیہ کے ذریعہ سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ تمام برادریوں کے پرامن طریقے سے عبادت کرنے کے حق کویقینی بنائے، خاص طورپرنجی املاک پر۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے نابالغوں کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں نامزد سوامی اویمکتیشورانند کی گرفتاری پر فی الحال پابندی عائد کر دی ہے۔