Bharat Express DD Free Dish

Allahabad HC

یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرنے کے احکامات الہ آباد ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیے۔ عدالت نے معاملے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے اسے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی یعنی کمشنر کے پاس واپس بھیج دیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے شواٹس کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی بقایا تنخواہوں کے معاملے میں واضح کیا کہ جن 44 ملازمین کی تقرری کو جانچ کمیٹی درست قرار دے چکی ہے، ان کی تنخواہوں کی ادائیگی میں اب مزید کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور پیروی کے نتیجے میں بریلی تشدد کیس کے ایک ملزم عمران عرف امروز کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔

اتر پردیش کے باہوبلی سابق رکن اسمبلی وجے مشرا کو 46 سال پرانے قتل کیس میں بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پریاگ راج کی ایم پی-ایم ایل اے اسپیشل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے وجے مشرا کے ساتھ ان کے تین قریبی ساتھیوں جیت نارائن، سنترام مشرا اور بلرام مشرا کو بھی مجرم قرار دیتے ہوئے سخت عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چاروں مجرموں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ (لکھنؤ بنچ) کے 16 جنوری 2026 کو سنائے گئے حالیہ فیصلے کا جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ  (ایم ٹٰ بی ) نے خیر مقدم کیا  ہے۔ اس فیصلے میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کی توثیق کی گئی ہے اور اتر پردیش میں غیر منظور شدہ (غیر تسلیم شدہ) مدارس کے کام کاج سے متعلق قانونی صورتِ حال کو واضح کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر، جسٹس دتا نے ایک طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ یہ درخواست دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ درخواست میں تین فریقین ہیں، آپ کا بنیادی مسئلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔سبل نے کہا کہ وہ ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نہ صرف ملزمین کی عرضی کو مسترد کر دیا بلکہ آریہ سماج مندروں کی طرف سے جعلی نکاح نامہ جاری کرنے کے معاملات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ کیس نہ صرف گیان واپی مسجد کے مستقبل بلکہ ملک میں مذہبی مقامات سے متعلق قانونی اور سماجی بحث کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا 1991 کے ورشپ  ایکٹ کے تحت اس طرح کے سروے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟ بدانتظامی کے لئے آپ کو جوابدہ کیوں نہیں ہونا چاہئے؟بھارت ایکسپریس  کے مطابق جسٹس شیکھر کمار یادو نے کہا کہ مہا کمبھ میں کروڑوں عقیدت مند آئیں گے۔ تاہم مرکزی اور ریاستی حکومتیں انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ایم پی برق کے خلاف جن دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ وہ سات سال کی سزا  ہوتی ہے۔ پولیس اس معاملے میں برک کو نوٹس جاری کرے گی۔ وہ نوٹس بھی جاری کر سکتی ہے اور انہیں پوچھ گچھ کے لیے بلا بھی سکتی ہے۔