Bharat Express DD Free Dish

Allahabad HC

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور پیروی کے نتیجے میں بریلی تشدد کیس کے ایک ملزم عمران عرف امروز کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔

اتر پردیش کے باہوبلی سابق رکن اسمبلی وجے مشرا کو 46 سال پرانے قتل کیس میں بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پریاگ راج کی ایم پی-ایم ایل اے اسپیشل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے وجے مشرا کے ساتھ ان کے تین قریبی ساتھیوں جیت نارائن، سنترام مشرا اور بلرام مشرا کو بھی مجرم قرار دیتے ہوئے سخت عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چاروں مجرموں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ (لکھنؤ بنچ) کے 16 جنوری 2026 کو سنائے گئے حالیہ فیصلے کا جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ  (ایم ٹٰ بی ) نے خیر مقدم کیا  ہے۔ اس فیصلے میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کی توثیق کی گئی ہے اور اتر پردیش میں غیر منظور شدہ (غیر تسلیم شدہ) مدارس کے کام کاج سے متعلق قانونی صورتِ حال کو واضح کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر، جسٹس دتا نے ایک طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ یہ درخواست دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ درخواست میں تین فریقین ہیں، آپ کا بنیادی مسئلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔سبل نے کہا کہ وہ ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نہ صرف ملزمین کی عرضی کو مسترد کر دیا بلکہ آریہ سماج مندروں کی طرف سے جعلی نکاح نامہ جاری کرنے کے معاملات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ کیس نہ صرف گیان واپی مسجد کے مستقبل بلکہ ملک میں مذہبی مقامات سے متعلق قانونی اور سماجی بحث کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا 1991 کے ورشپ  ایکٹ کے تحت اس طرح کے سروے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟ بدانتظامی کے لئے آپ کو جوابدہ کیوں نہیں ہونا چاہئے؟بھارت ایکسپریس  کے مطابق جسٹس شیکھر کمار یادو نے کہا کہ مہا کمبھ میں کروڑوں عقیدت مند آئیں گے۔ تاہم مرکزی اور ریاستی حکومتیں انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ایم پی برق کے خلاف جن دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ وہ سات سال کی سزا  ہوتی ہے۔ پولیس اس معاملے میں برک کو نوٹس جاری کرے گی۔ وہ نوٹس بھی جاری کر سکتی ہے اور انہیں پوچھ گچھ کے لیے بلا بھی سکتی ہے۔

مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں جسٹس شیکھر کمار یادو کے حالیہ "متنازعہ بیان" کے لیے ان کے مواخذے کی نوٹس دی۔ راجیہ سبھا میں مواخذے کے لیے دیے گئے نوٹس پر اپوزیشن کے 55 اراکین پارلیمنٹ نے دستخط کیے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کی تحریک پر کاروائی تیز کردی گئی ہے،آج بقیہ اراکین سے دستخط کرانے کے بعد راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں نوٹس جمع کرائی جائے گی اس کے بعد سکریٹریٹ یہ طے کرے گا کہ نوٹس میں کتنا دم ہے۔