Bharat Express DD Free Dish

All India Muslim Personal Law Board

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اورسوگ کے اظہار کے طورپریہ احتجاجی مہم تین دن کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف تحفظ مہم کے تحت ملک گیر سطح پر جو مظاہرے اور عوامی اجتماعات جاری تھے، ان پر23 اپریل سے تین دنوں کے لئے مکمل روک لگا دی گئی ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جب تک یہ کالے قانون واپس نہیں لئے جاتے تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں پورے اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ کسی طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت  ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ آج کا سیاسی ماحول بہت بگڑ چکا ہے۔ جے ڈی یو، ایل جے پی، ٹی ڈی پی جیسی جماعتوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے۔ انہیں آئندہ انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت  ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

آج ہورہی اس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران کے علاوہ جے پی سی میں شامل اراکین پارلیمنٹ اور کئی اہم اپوزیشن کے سرکردہ شخصیات کے علاوہ جمعیت وجماعت کے قائدین شامل  ہورہے ہیں ۔

عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقف قانون میں مرکزی حکومت کے ذریعہ من مانی، متنازعہ، دستوری حقوق سے متصادم ، امتیازوتفریق اورفرقہ واریت پرمبنی ترمیمات نے فی الواقع مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا ہے، جس کا اظہار ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج و مظاہروں کی شکل میں ہو رہا ہے۔