Bharat Express DD Free Dish

All India Muslim Personal Law Board

رحمانی نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں ہم نے ملک بھر کے مسلمانوں کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں کہ وہ متحد ہو کر اس قانون کی مخالفت کریں۔ ہماری یہ ملاقات نتیجہ خیز رہی۔ اس میں بہت سے لوگوں نے حصہ لیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس قانون سے ناخوش ہیں۔

وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعد اب قانون بھی بن گیا ہے۔ اسے صدرجمہوریہ کی منظوری مل گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 128 ووٹ اور خلاف میں 95 ووٹ پڑے تھے۔ لوک سبھا میں اس کے حق میں 288 اور اپوزیشن میں 232 ووٹ پڑے تھے۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے سخت اعتراض ظاہرکیا ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور وقف جائیداد پر حکومت کا کنٹرول بڑھاتا ہے۔ بل کی مخالفتم یں 5 کروڑ سے زیادہ ای-میل بھیجے گئے ہیں، لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہیں دیا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بل پربحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل یعنی جمعرات کو اس بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن پارٹیاں پوری طرح سے اس بل کے خلاف ہیں اوروہ ایوان کے اندراور باہرہنگامہ کر رہی ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف بل ہے، ہم نے اس کے خلاف پارلیمنٹ سے لیکر اسمبلی تک آواز اٹھائی ہے ،آپ کی اس لڑائی میں ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں ،، اس لڑائی میں ہر کسی کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔

احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان اپیلوں کے باوجود یہ جماعتیں اس متنازع، امتیازی اور فرقہ وارانہ بل کی حمایت کرتی ہیں اور اسے قانون بننے میں مدد دیتی ہیں تو مسلم کمیونٹی اس ناانصافی کو کبھی نہیں بھولے گی۔

جمہوریت میں مخالفت درج کرانے کے لئے احتجاج کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی حمایت کے بغیر وقف ترمیمی بل کو منظور کرانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کو ان دونوں ہی پارٹیوں کی طرف سے کوئی مثبت یقین دہانی نہیں کرایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔

وقف ترمیمی بل 2024 کی مخالفت میں دارالحکومت دہلی واقع جنترمنترپرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں معروف شیعہ عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب جواد نے بھی شرکت کی۔