Bharat Express DD Free Dish

All India Muslim Personal Law Board

جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال نے کہا کہ جو لوگ جنتر منترپ راحتجاج کرنے گئے ہیں۔ انہوں نے رپورٹ بھی نہیں پڑھی ہے۔ دفعہ 370 اور تین طلاق کے وقت بھی ایسے ہی افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ احتجاجی مظاہرہ میں جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند، جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے شرکت کی۔

اے آئی ایم پی ایل بی کے مطابق، اس احتجاج میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، جے ایم ایم، این سی پی، ایس پی، اے آئی ایم آئی ایم، ڈی ایم کے، اکالی دل، شیو سینا اور آئی یو ایم ایل کے نمائندے شرکت کی۔

ہولی کی وجہ سے پارلیمنٹ بند ہوجانے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ملک گیر مہم جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے وقف ترمیمی بل کے خلاف بڑا اعلان کیا ہے۔ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس بل کے خلاف 10 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا۔

جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے غیر آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کوخارج کر کے بل کومنظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا اپنی جائیداد پر اتنا ہی حق ہے جتنا سکھوں اور ہندوؤں کا۔

میٹنگ میں بورڈ کے ذمہ داروں نے وقف ترمیمی بل کی فتنہ انگیزیوں سے شرکاء کو واقف کرایا۔ بی وی اے کے ذمہ داروں نے بورڈ کے ذمہ داروں کو یقین دلایا کہ وہ بھی اس بل کے خلاف بورڈ کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے اور ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ وہ مہاوکاس اگھاڑی کے 269 امیدواروں کی حمایت کریں گے اور اپنے لوگوں سے کہیں گے کہ وہ انہیں ہی ووٹ دیں۔ سجاد نعمانی نے کہا کہ مراٹھا اور او بی سی برادری سے تعلق رکھنے والے 117 امیدواروں کو ہماری حمایت حاصل ہے۔

بی جے پی اقلیتی مورچہ نے کہا کہ آپ ہندوستان کے مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ پسماندہ سماج کو آپ نے نہ کے برابر حصہ داری دی ہے اور نہ ہی اس کے لئے آپ نے کبھی آواز اٹھائی جبکہ ملک میں 80 فیصد مسلمان پسماندہ طبقے سے آتے ہیں۔ یہ ایک غیر ضروری تنظیم ہے، لہٰذا اس کے نام سے’بورڈ‘ لفظ ہٹایا جائے۔