Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘ بھی شامل کرلیا، اکھلیش یادو نے طلبہ تنظیم کے لیے نئی یونیفارم جاری کرکے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے دلت ووٹروں کو جوڑنے اور ’پسماندہ، دلت، اقلیت‘ فارمولے کو نیا سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

اتر پردیش میں مایاوتی اور آکاش آنند کے درمیان اختلافات، تنظیمی تبدیلیوں اور دلت ووٹ بینک کی کمزور ہوتی گرفت نے 2027 کے انتخابی حساب کتاب کو پیچیدہ کردیا، کانگریس اور سماج وادی پارٹی خالی جگہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

UP Assembly Election 2027: اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے 403 نشستوں پر خفیہ سروے کرایا ہے۔ رپورٹ میں 128 ارکان اسمبلی کے خلاف اینٹی انکمبنسی کے آثار سامنے آئے ہیں۔

مسجد گرائے جانے کے معاملے پر ایس پی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کا 22 رکنی وفد پیر کو سہارنپور جائے گا۔ اس دوران وفد کمشنر سے ملاقات کرے گا اور پورے معاملے کی معلومات حاصل کرے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ اگر کسی معاملے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی تھی تو جلد بازی میں ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی معاملے کو سیاسی دباؤ یا چمک دمک کے اثر میں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

اتر پردیش کی سیاست میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایودھیا کے رام مندر سے متعلق چندے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں ہے۔ اس سلسلے میں سابق وزیر اعلیٰ  اورسماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش کا حملہ مسلسل بی جے پی حکومت پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا 2027 میں بی جے پی کے لیے بنے گا سیاسی چیلنج؟

اکھلیش یادو کے ’چونی‘ والے تبصرے پر راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے سربراہ جینت چودھری نے سخت جوابی حملہ کرتے ہوئے اسے تکبر اور جاٹ برادری کو نشانہ بنانے سے جوڑ دیا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور آر ایل ڈی کے پرانے اتحاد کے ساتھ ساتھ جینت چودھری کے بی جے پی کے ساتھ جانے کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان بڑھتی تلخی اب 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مرکز کی بی جے پی حکومت اور ریاست کی یوگی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ رام راجیہ کی بات کرتے ہیں، لیکن ’’رام دھن‘‘ کو ہی لوٹ لیتے ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ جس طرح ماضی میں انگریزوں سے اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑی گئی، اسی طرح آج بھی حکومت کے سامنے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے آئین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ پورا لکھنؤ کچرے سے بھرا ہوا ہے۔

اعظم گروپ کی ڈمپل یادوسے ناراضگی کی خبروں پر سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری شیوپال یادو رام پور کے ایک روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کو ڈیمیج کنٹرول کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔