Bharat Express DD Free Dish

Ajmer Dargah

واقعے میں کسی بڑے نقصان یا سنگین زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک کسی فریق کی جانب سے باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ راجستھان پولیس، درگاہ کمیٹی اور مقامی انتظامیہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عرضی میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ موجودہ درگاہ کے مقام پر پہلے ایک قدیم شیو مندر تھا، اور اس معاملے پر پہلے ہی اجمیر کی عدالت میں مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ ایسے میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ مقدمے کے دوران چادر چڑھانے کی روایت اس کیس کو متاثر کر سکتی ہے۔

اجمیر شریف درگاہ کے دیوان کے جانشین سید نصیرالدین چشتی نے ملک کی مشترکہ ثقافت، گنگا-جمنی تہذیب اور سماجی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی تقریبات سماج کو جوڑنے کا ایک مضبوط اور مؤثر ذریعہ ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ 11 سالوں میں ملک کے حالات بدل گئے ہیں اور مسلمانوں کو ان پر پورا بھروسہ ہے۔

زین العابدین علی خان نے کہا کہ 1971 میں میں لاہور گیا اور چائے پی اور کھانا کھایا، جس طرح اسرائیل غزہ پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر رہا ہے، اسی طرح بھارت کو پاکستان کے تمام شہروں پر قبضہ کر کے اتحاد کے دھاگے میں باندھنا چاہیے۔

اجمیر درگاہ کے عہدیداروں نے کہا کہ وزیر اعظم کا اقدام اور رججو کی موجودگی ملک کے متنوع ثقافتی اور مذہبی منظر نامے میں ایک متحد علامت کے طور پر اجمیر درگاہ کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

مرکزی وزیر رجیجو نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں وزیر اعظم مودی انہیں اور بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر جمال صدیقی کو اجمیر درگاہ پر چادر چڑھانے کیلئے اپنی طرف سے چادردیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اجمیرشریف درگاہ دیوان کی طرف سے بھی فریق بنانے کے لئے عرضی لگائی جائے گی۔ درگاہ دیوان کے فرزند نصرالدین علی نے کہا کہ ہم خواجہ صاحب کی اولاد ہیں اورہم بھی عدالت میں اپنا موقف رکھیں گے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ انسانیت کی خدمت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ جس طرح ان کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھلے تھے اسی طرح وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی کھلے تھے اور بلا تفریق دلوں کو گرماتے اور ذہنوں کو اپنی محبت سے تازہ کرتے رہے ہیں۔

یہ خیال  مضحکہ خیز ہے کہ ایک متقی بزرگ، ایک فقیر، جو برصغیر پاک و ہند کی منفرد صوفی تحریک کا ایک لازمی حصہ تھا اور ہمدردی، رواداری اور ہم آہنگی کی علامت تھا، اپنے  حق کے دعوے کے لیے کسی پر حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔  اور مندر کو منہدم کر دے گا۔