Bharat Express DD Free Dish

Ajmer Dargah

اے آئی ایم پی ایل بی کے ترجمان سید قاسم الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ "پرسنل لاء بورڈ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں مساجد اور درگاہوں کے خلاف دعووں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے دعوے قانون اور آئین کا کھلا مذاق ہیں۔

نگینہ کے رکن پارلیمنٹ چندرشیکھرآزاد نے کہا کہ اگربودھ طبقے کے لوگ بھی عدالت چلے جائیں اور ہندو مندروں کے نیچے بودھ مٹھوں کے سروے کا مطالبہ کرنے لگیں، تب حکومت کیا کرے گی؟ کیا تب بھی عدالت کا رخ یہی رہے گا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

اتر پردیش کے سنبھل میں مسجد کے سروے کے دوران تشدد کے بعد اب راجستھان کا اجمیر شریف بھی ملک میں خبروں میں ہے۔ راجستھان کی ایک نچلی عدالت میں اجمیر کی درگاہ شریف کو ہندو مندر قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی ہے جسے عدالت نے قبول کر لیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے درگاہ میں مندربتانے پراقلیتی امورکے وزیرسے سوال کیا کہ اس موضوع پران کی وزارت کا کیا رخ ہے؟ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کی زمین پرقبضہ کرنا چاہتی ہے۔

یہاں میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا وہ بیان یاد دلانا چاہتا ہوں جو انہوں نے سال 2022 میں دیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر مسجد میں شیوالہ ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے اور ہر بار کوئی نیا تنازع شروع کرنے کی کیا ضرورت ہے، میں ان سے پوری طرح متفق ہوں۔

ہندو شکتی دل کے قومی صدر سمرن گپتا نے درگاہ کے بارے میں مبینہ طور پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے حال ہی میں ضلع انتظامیہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا تھا جس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے اس کے سروے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد میں مسلم کمیونٹی نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

جمال صدیقی نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے خواجہ صاحب کے مقدس مزار پر مخملی چادر چڑھائی اور ملک میں امن و سکون کی دعا کی۔

وزیراعظم مودی نے ایکس (ٹوئٹر) پرلکھا کہ میں نے مسلم طبقے کی نمائندوں سے ملاقات کی۔ میں نے اس دوران چادر پیش کی، جسے خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کے دوران اجمیر شریف درگاہ پرچڑھایا جائے گا۔

اندریش کمار نے بیٹیوں اور ماؤں کے خلاف مظالم کو روکنے کے لیے بچوں میں اقدار کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے لڑکیوں کے لیے لازمی تعلیم کی وکالت کی اور تمام خواتین کو ماؤں، بیٹیوں یا بہنوں کی طرح عزت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔