Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ہریانہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، کیرالا اور کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں کے یوم قیام کے موقع پر اہلِ ریاست کو نیک خواہشات پیش کیں اور ریاست کی ترقی، خوشحالی و اتحاد کے لیے دعا کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان وعدوں میں کتنی صداقت ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن عوام ان اعلانات کولے کر  شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ عام لوگ کہہ رہے ہیں کہ منشور کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے لیڈروں کو جادو کی چھڑی دے دی گئی ہے

سی ایم ہیمنت سورین نے واضح کیا کہ تارکین وطن کارکنوں کی شناخت، روزگار کے حالات، اور ایسے معاملات میں ایجنسی کی ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے ایک سخت نگرانی کا طریقہ کار قائم کیا جائے گا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر مہاجر مزدوروں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دہلی–این سی آر کے مکینوں کے لیے فی الحال آلودگی سے بچاؤ کے اقدامات ہی سب سے بڑا سہارا ہیں، کیونکہ ماحولیاتی بہتری کے کوئی فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔

BS-VI معیار اپریل 2020 سے نافذ ہے اور اسے Euro-VI کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے نائٹروجن آکسائیڈ، ذرات اور کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج میں 70-80فیصد کمی واقع ہوتی ہے

میلے کا سب سے دلکش پہلو بین الاقوامی فوڈ فیسٹیول رہا، جہاں بھارتی کھانوں سے لے کر غیر ملکی ذائقوں تک ہر قسم کی لذت موجود تھی۔ طلبہ اور مہمانوں نے ذائقے، خوشبو اور دوستی کے لمحات کو جی بھر کے جیا۔

ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ آج بھی جب میں 1984 کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو لرز اٹھتا ہوں، جب بے سہارا اور معصوم سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کا بے دردی سے قتلِ عام کیا گیا تھا۔

اس جشن کے تحت روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات آٹھ بجے تک مختلف پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو سننے اور طلبہ کے ادبی مقابلوں کو دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس وراثتی میلے میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پروگراموں کے علاوہ کتابوں، کیلی گرافی، پینٹنگز، دستکاری اور دیگر اشیاء کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں۔

افریقی ملک تیونس کی ایک کمپنی میں دیہاڑی مزدوری کرنے گئے جھارکھنڈ کے 48 مزدوروں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ کمپنی ان سے زبردستی کام کروا رہی ہے، لیکن گزشتہ تین مہینوں سے انہیں مزدوری کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔

کلدیپ کمار نے بتایا کہ ایمرجنسی وارڈ میں بھی دواؤں کی شدید کمی ہے اور مریضوں کو جن اوشدھی کیندروں پر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جان بوجھ کر یہ دکانیں اسپتالوں کے باہر کھلوا رکھی ہیں تاکہ غریب مریضوں سے پیسے وصول کیے جا سکیں۔