Bharat Express DD Free Dish

Sanjay Raut Statement: ’’میرے ہاتھ میں الیکشن کمیشن ہوگا، تو بی جے پی کے چار ٹکڑے کر دوں گا‘‘، شیوسینا یو بی ٹی کے سینئر لیڈر سنجے راوت کے بیان سے ممبئی کی سیاست میں ہلچل

شیوسینا یو بی ٹی کے سینئر لیڈر سنجے راوت کے حالیہ بیان نے ممبئی کے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ ایک عوامی پروگرام کے دوران سنجے راوت نے نہ صرف بی جے پی اور شندے گروپ پر شدید تنقید کی بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی قیادت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر تیز بیانات اور سخت الزامات کی زد میں آ گئی ہے۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان سنجے راوت کے حالیہ بیانات نے ممبئی کے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ ایک عوامی پروگرام کے دوران سنجے راوت نے نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی اور شندے گروپ پر شدید تنقید کی بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی قیادت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سنجے راوت نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کہا کہ اگر ان کے ہاتھ میں الیکشن کمیشن اور پولیس جیسی طاقت آ جائے تو وہ بی جے پی کے ’’چار ٹکڑے‘‘ کر دیں گے۔ ان کے اس بیان نے فوراً تنازع کھڑا کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ مسئلہ کمیشن کا نہیں بلکہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی کام کرنے کی طرزِ سیاست کا ہے۔ راوت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ سیاست دان کم اور تاجر زیادہ ہیں، جو سیاست کو بھی کاروبار کی طرح چلاتے ہیں۔

انہوں نے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کو ’’امت شاہ کی بنائی ہوئی دکان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل شیو سینا وہی ہے جہاں ٹھاکرے خاندان موجود ہے۔ راوت کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہو یا پارٹی نشان کی بات، اس سے زیادہ اہم عوام کے دلوں میں بسنے والی شیو سینا ہے، جس کی پہچان بالاصاحب ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سنجے راوت نے ایک بار پھر ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی مبینہ سازش کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 70 برسوں سے دہلی میں بیٹھے کچھ طاقتور حلقے ممبئی کو مہاراشٹر سے جدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ متحدہ مہاراشٹر کی تحریک میں 106 افراد نے اپنی جانیں قربان کی تھیں اور آج انہی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

راوت نے خدشہ ظاہر کیا کہ کچھ طاقتیں ممبئی کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنا کر اسے گجرات کے اثر و رسوخ میں لانا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبئی کے بڑے منصوبے، وسائل اور اقتصادی طاقت کو آہستہ آہستہ دیگر ریاستوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جو مراٹھی مانس کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ممبئی میں بڑھتی ہوئی ’’غنڈہ گردی‘‘ کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے سنجے راوت نے سخت اور دیسی انداز میں کہا کہ اس وقت پولیس ان کے پاس ہے، اسی لیے ان کی دھونس چل رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شیو سینا (یو بی ٹی) کمزور نہیں ہے اور اپنی زمین اور شناخت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مقابلہ کرے گی۔ راوت کے الفاظ میں، ’’ہم بھی غنڈے ہیں اور لڑنا جانتے ہیں‘‘۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے درمیان بڑھتی قربتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب مراٹھی مانس کے وجود پر خطرہ آتا ہے تو بھائیوں کو ایک ہونا ہی پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ وقت ذاتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر مہاراشٹر اور ممبئی کے مفاد میں اکٹھا ہونے کا ہے۔

سنجے راوت نے آنے والے وقت کو ممبئی کے لیے ’’آر پار کی لڑائی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شندے اور فڈنویس حکومت چاہے جتنے دعوے کرے، حقیقت یہ ہے کہ دہلی سے ممبئی کا ’’ڈیتھ وارنٹ‘‘ جاری ہو چکا ہے، جسے روکنے کے لیے شیو سینا (یو بی ٹی) آخری سانس تک جدوجہد کرے گی۔ کانگریس کے ساتھ اتحاد پر بات کرتے ہوئے راوت نے کہا کہ ان کی جماعت نے آخر تک بات چیت اور سمجھوتے کی کوشش کی ہے اور اتحاد اب بھی قائم ہے، تاکہ ممبئی میں ایک بار پھر زعفرانی پرچم لہرایا جا سکے۔ سیاسی تلخیوں کے بیچ سنجے راوت نے ایک نرم اور انسانی پہلو بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود ذاتی دشمنی اس حد تک نہیں بڑھی۔ راوت نے انکشاف کیا کہ ایکناتھ شندے نے ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ذاتی تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق مہاراشٹر کی سیاسی ثقافت ایسی نہیں کہ اختلاف کے بعد بات چیت ہی بند ہو جائے، یہاں تک کہ وزیر اعظم نے بھی فون پر گفتگو کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read