Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر سیاست گرم، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی حمایت مگر مسودہ پیش کرنے کا مطالبہ

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

نئی دہلی: خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی دینے سے متعلق مجوزہ خواتین ریزرویشن بل پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مرکزی حکومت اس بل کو نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر اس معاملے میں تعاون اور حمایت کی اپیل کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیان بازی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے اس بل کی اصولی حمایت کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بل کا مکمل مسودہ پہلے پیش کیا جائے تاکہ اس پر سنجیدہ بحث ممکن ہو سکے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بغیر تفصیلی خاکے کے حمایت مانگنا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کا تصور سب سے پہلے کانگریس نے پیش کیا تھا اور اس کی بنیاد سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی نے رکھی تھی۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کے پاس اس بل کے حوالے سے کوئی واضح وژن نہیں ہے اور وہ صرف نام بدلنے تک محدود ہے۔ عمران مسعود نے کہا کہ اپوزیشن اس بل کی مخالفت نہیں کرے گی، کیونکہ یہ ان ہی کی پہل تھی، لیکن حکومت کو پہلے واضح کرنا ہوگا کہ وہ اس قانون کے تحت کیا اقدامات کرنا چاہتی ہے۔

ادھر سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے بھی خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مین پوری میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اصولی طور پر اس بل کے ساتھ ہے، لیکن اس میں کچھ اہم نکات شامل کیے جانے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اگر ذات پر مبنی مردم شماری کے بغیر یہ بل نافذ کیا جاتا ہے تو پسماندہ طبقات کی خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں مل سکے گی۔ ڈمپل یادو نے زور دیا کہ ریزرویشن کے اندر بھی دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی خواتین کے لیے مخصوص حصہ ہونا چاہیے تاکہ سماجی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے ساتھ ساتھ سماجی توازن کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

اس دوران انہوں نے اتر پردیش کی تازہ ووٹر لسٹ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اسمبلی حلقوں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سماجوادی پارٹی مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بوتھ سطح پر اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن بل ایک اہم آئینی قدم ہے، لیکن اس پر مکمل اتفاق رائے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت مسودہ پیش کر کے اپوزیشن کے تحفظات دور کرتی ہے یا نہیں، کیونکہ اسی پر اس بل کے مستقبل کا دارومدار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read