Bharat Express DD Free Dish

Imran Masood

دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ ہوگیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پوچھا کہ سرکاری دفتروں اور پولیس کیمپوں میں بنے مندروں کا کیا ہوگا؟ عمران مسعود نے پولیس تھانوں اور پولیس لائنوں میں بنے مندروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی عقائد کے حوالے سے ایک مشترکہ نظام اورروایت رہی ہے۔

آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ جامعہ کے گیٹ اورلائبریری اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ طلبا کا یہ احتجاج تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔

 یوپی اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی سے اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم سے متعلق کانگریس رکن پارلیمنٹ اور کارگزار صدر عمران مسعود نے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیٹ بڑی چیز نہیں ہے۔ حکومت تبدیل کرنا بڑی چیز ہے۔

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور انڈیا اتحاد کے مستقبل پر بحث تیز

عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شامل نہ ہونے پر عمران مسعود نے کہا کہ جو راہل گاندھی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں، وہی اس لڑائی میں نظر آئیں گے۔ باقی یا تو طوفان میں بہہ جائیں گے یا دوسری طرف رہ کر بہہ جائیں گے۔

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی ہیں اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری کی بیٹی ہیں۔ دوسری جانب عمران مسعود سہارنپور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس سے قبل اتر پردیش کانگریس میں نائب صدر کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی کرے گی

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس کے درمیان اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر جاری سیاسی کشمکش اب عمران مسعود اور اقرا حسن کی بیان بازی تک پہنچ گئی ہے۔ عمران مسعود جلد سیٹوں کی تقسیم طے کرنے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ اقرا حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت صرف اکھلیش یادو میں ہے۔

اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر القاضی اردو اکیڈمی اینڈ کوچنگ ٹرسٹ کی بانی ایڈوکیٹ شاہ جبین قاضی کو’بزم صحافت‘ میں اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

اقرا حسن کے مطابق وہ سہارنپور جاکر انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں تاکہ معاملے کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ عوام کی آواز بھی اٹھائی جاسکے، لیکن پولیس نے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں روکا جائے، اس کے باوجود انہیں ہاؤس اریسٹ کردیا گیا۔