Bharat Express DD Free Dish

Imran Masood

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور انڈیا اتحاد کے مستقبل پر بحث تیز

عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شامل نہ ہونے پر عمران مسعود نے کہا کہ جو راہل گاندھی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں، وہی اس لڑائی میں نظر آئیں گے۔ باقی یا تو طوفان میں بہہ جائیں گے یا دوسری طرف رہ کر بہہ جائیں گے۔

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی ہیں اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری کی بیٹی ہیں۔ دوسری جانب عمران مسعود سہارنپور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس سے قبل اتر پردیش کانگریس میں نائب صدر کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی کرے گی

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس کے درمیان اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر جاری سیاسی کشمکش اب عمران مسعود اور اقرا حسن کی بیان بازی تک پہنچ گئی ہے۔ عمران مسعود جلد سیٹوں کی تقسیم طے کرنے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ اقرا حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت صرف اکھلیش یادو میں ہے۔

اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر القاضی اردو اکیڈمی اینڈ کوچنگ ٹرسٹ کی بانی ایڈوکیٹ شاہ جبین قاضی کو’بزم صحافت‘ میں اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

اقرا حسن کے مطابق وہ سہارنپور جاکر انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں تاکہ معاملے کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ عوام کی آواز بھی اٹھائی جاسکے، لیکن پولیس نے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں روکا جائے، اس کے باوجود انہیں ہاؤس اریسٹ کردیا گیا۔

کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی مقام کہیں کا بھی ہو، اسے توڑنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسے مذہبی مقامات ہیں جو ملکوں کے وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں، انہیں منہدم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور کانگریس کی جانب سے 115 سے 120 نشستوں کے مطالبے پر عمران مسعود نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے ہیں۔

سہارنپور کے شایان مسعود نے کانگریس سے رشتہ توڑ کر سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اکھلیش یادو نے انہیں پارٹی کی رکنیت دلائی۔