Bharat Express DD Free Dish

Imran Masood

کانگریس کے رکن پارلیمان عمران مسعود نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، لیکن حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔

کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی کی جانب سے منعقدہ اس اہم اجلاس میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران بڑھ رہا ہے اور بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔

ریاستی حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے کہا کہ کانگریس حکومت نے کسی بھی ڈریس کوڈ کو ختم نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت صرف آئین کی جانب سے دیے گئے مذہبی حقوق کو یکساں مقام دینے کی بات کر رہی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بیان جاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

پاکستان نے ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 سے عین قبل بھارت سے کھیلنے سے انکارکر دیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پرحکومت اور بی سی سی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے قومی احترام کا حوالہ دیتے ہوئے اس طرح کے تعلقات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکزی بجٹ 2026 کو لے کر اپوزیشن لیڈران کے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے بجٹ میں ریاستوں، کسانوں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ٹھوس انتظامات کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔

عمران مسعود نے بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال پر کہا کہ بنگلہ دیش کے معاملے میں مرکزی حکومت کی خاموشی مناسب نہیں ہے۔ وہاں مسلسل ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں اور انہیں قتل کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دیوالی مبارکباد پر بھی عمران مسعود نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ روز ہمیں دھمکاتے ہیں، ٹیکس لگانے کی بات کرتے ہیں، پھر مبارکباد دیتے ہیں، اور مودی جی اُسے قبول بھی کر لیتے ہیں۔ ایک بار اندرا گاندھی جیسا دم دکھائیں اور کہیں کہ ملک کے مفاد میں ہم ٹرمپ کا فون نہیں لیں گے۔

عمران مسعود نے کہا کہ ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کرانے کے بعد اب وہ اسے "خوشگوار انداز میں حل کرنے" کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سماج میں نفرت نہ پھیلائیں۔ ورنہ آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایسی سیاست سے سماج تقسیم ہو جائے گا۔