بستر: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منائی اور نکسلزم کے سابق گڑھ میں آنے والی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب یہاں کے لوگ آزادانہ طور پر تہوار منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی مضبوط ہو تو بیرونی دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم نے کرن پور میں قائم کوبرا آپریشنز بیس کا دورہ کیا، جو بستر اور ابوجھماڑ میں نکسل مخالف کارروائیوں کے لیے تربیتی مرکز اور آپریشنز کے آغاز کا اہم مقام رہا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ 140 کروڑ ہم وطنوں کی جانب سے ان کی قربانی، لگن اور خدمت کے جذبے کے لیے شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب کسی ملک کی اندرونی سلامتی مضبوط ہوتی ہے تو بیرونی دشمن کامیاب نہیں ہو سکتے، لیکن جب اندرونی سلامتی کمزور پڑتی ہے تو بیرونی دشمن بھی سر اٹھانے لگتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات مسلح افواج جو کردار ادا کرتی ہیں، وہی کردار ملک کے اندر سلامتی برقرار رکھنے والے اہلکاروں کا ہے۔ ان جوانوں نے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اپنی ذاتی زندگی میں بھی بڑی قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے مختلف مقامات پر تعینات اور پہرہ دینے والے اہلکاروں کو دیوالی کی مبارک باد بھی پیش کی۔ وزیراعظم نے علاقے میں نکسل تشدد کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نکسل انتہا پسندوں نے لوگوں سے ووٹ دینے کا حق تک چھین لیا تھا اور ایک سال میں دو ہزار تک حملے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں قریبی علاقے دانتے واڑہ میں نکسل انتہا پسندوں کے ساتھ ایک تصادم کے دوران سی آر پی ایف کے 76 جوان شہید ہوگئے تھے۔ اسی سال دانتے واڑہ میں پیش آنے والے ایک دوسرے واقعے میں 44 بے گناہ شہریوں کی جان چلی گئی تھی۔ مودی کے مطابق یہ سرزمین بہادر جوانوں کے خون سے رنگی رہی ہے۔
سابقہ حکومتوں پر نکسلزم کو نظرانداز کرنے کا الزام
وزیر اعظم نے سابقہ حکومتوں پر نکسلزم سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے بااثر رہنماؤں کی جانب سے اس تشدد کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2004 سے 2013 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سال شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد ہلاک کیے گئے نکسل انتہا پسندوں سے زیادہ تھی۔ مودی نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت کی حکومتوں نے نکسلزم کو ایک لاعلاج مرض سمجھ کر اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔ ان کے مطابق دشمنوں کے سامنے حالات کو اسی طرح جاری رہنے دینے کا رویہ کسی ملک کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔ بستر میں نکسلزم کے خاتمے کی مہم میں سی آر پی ایف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصے تک نکسلزم کی وجہ سے ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرتا رہا۔ اب امن و سلامتی کی صورت حال بہتر ہونے کے ساتھ تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی، مواصلات، سیاحت اور روزگار کے شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی نکسلزم کے خاتمے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ تشدد ترک کرکے خودسپردگی کرنے والوں کو سماج کے مرکزی دھارے میں واپس آنے کا موقع دیا جاتا ہے، جبکہ قانون توڑنے اور بے گناہ شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائی کرتی ہیں۔ اس مہم کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں نے خودسپردگی کرکے مرکزی دھارے میں واپس آنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




