Bharat Express DD Free Dish

Internal Security

ریاستی انٹیلی جنس بیورو (SIB) کی جانب سے جاری ایک خفیہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت پولیس کو سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، مذہبی تنظیموں اور بعض رویوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے گجرات کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر اس ایس او پی پر عمل درآمد روکنے اور اس کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اعلیٰ سطحی کانفرنس میں سرحدی سلامتی، غیر قانونی ہجرت، آبادی کے بدلتے رجحانات، پاکستانی ڈرونز، منشیات کی اسمگلنگ اور باڑ بندی کے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔

امت شاہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر اس جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے ان کے خلاف سخت اور بے رحم رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، جبکہ نشے کے شکار افراد کی بحالی اور مدد پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سال کے لیے حکومت کا لائحۂ عمل واضح ہے اور اگلے سال اس کا جائزہ لے کر آئندہ مرحلے کی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔

نئے ہیڈکوارٹر میں جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ سی آئی ایس ایف کو ایک مربوط اور جدید طرز کا مرکزی دفتر میسر آسکے۔ سی آئی ایس ایف ملک کی اہم مرکزی مسلح پولیس فورسز میں شامل ہے، جو ہوائی اڈوں، اہم صنعتی اداروں اور حساس تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ دورہ سرحدی سکیورٹی کو جدید بنانے، نگرانی کے نظام کو بہتر کرنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور فورسز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ زمینی سطح پر تعینات اہلکاروں سے براہ راست رابطہ پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔

وزیرداخلہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے آسام دراندازوں کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت دراندازی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور ریاست کی ثقافت، زمین اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

امت شاہ نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار اٹھائیں گے انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے، تاہم حکومت ان افراد سے بات چیت کے لیے تیار ہے جو ہتھیار ڈال دیں۔ انہوں نے نکسلی نظریے کے حامیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین پر یقین نہیں رکھتے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری کی پالیسی پر بھی زور دیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ 9 فروری کو بستر کے دورے پر جائیں گے، جہاں وہ ’بستر پندوم-2026‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور اس ثقافتی و عوامی پروگرام کا باقاعدہ اختتام کریں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کریں گے اور حکومت کی ہمدردانہ تقرری پالیسی کے تحت اہل افراد کو ملازمت کے تقرری نامے بھی حوالے کریں گے۔ یہ دورہ حکومت کی دوہری حکمت عملی مضبوط سکیورٹی نظام اور مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانا ہے۔