مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
نئی دہلی: وزیرداخلہ امت شاہ پیر کی رات سے ہندوستان کی مختلف سرحدی ریاستوں کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے دوران وہ سرحدی سکیورٹی انتظامات، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل اور حساس علاقوں کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دورہ مرکز کی جانب سے بدلتے سکیورٹی چیلنجز کے درمیان سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ امت شاہ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں 25 مئی کی رات راجستھان کے شہر بیکانیر پہنچیں گے۔ 26 مئی کو وہ ہندوستان-پاکستان سرحد پر واقع بی ایس ایف کی سانچو چوکی کا دورہ کریں گے، جہاں وہ تعینات اہلکاروں سے ملاقات کر کے زمینی صورتحال اور درپیش چیلنجز کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کریں گے۔
فورسز کی فلاح کے لیے نئی اسکیموں کا افتتاح
وزیر داخلہ اس دوران سرحدی فورسز کی رہائش اور کام کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے کئی فلاحی منصوبوں کا بھی افتتاح کریں گے۔ حکومت کا مقصد مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کا حوصلہ بڑھانا اور ان کی سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی دن امت شاہ بیکانیر میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت بھی کریں گے، جس میں وزارت داخلہ، راجستھان حکومت، بی ایس ایف کے سینئر افسران اور پانچ سرحدی اضلاع کے پولیس و انتظامی حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں سرحد پار خطرات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
گجرات میں حرامی نالہ کا دورہ
29 مئی کو امت شاہ بُھج جائیں گے، جہاں وہ بی ایس ایف کی ایک اور سرحدی چوکی اور حساس علاقے حرامی نالہ کا معائنہ کریں گے۔ حرامی نالہ دراصل گجرات کے کچھ علاقے میں واقع ایک انتہائی حساس سمندری چینل ہے، جو ہندوستان اور پاکستان کی سرحدی حدبندی کا حصہ مانا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 22 کلومیٹر طویل علاقہ دلدلی زمین، سمندری پانی اور خطرناک جغرافیائی حالات کی وجہ سے ہمیشہ سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے چیلنج بنا رہتا ہے۔ یہ علاقہ جزوی طور پر راجستھان کے بارمیر ضلع سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہاں پانی کی سطح اور بہاؤ موسم کے مطابق مسلسل بدلتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے نگرانی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
’’حرامی نالہ‘‘ نام کیسے پڑا؟
اس علاقے کو ’’حرامی نالہ‘‘ کہنے کے پیچھے بھی ایک خاص وجہ بتائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان سے ہندوستان میں غیر قانونی داخلے کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں پاکستانی اسمگلر، مشتبہ دہشت گرد اور ماہی گیر اس راستے سے ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کئی مرتبہ پاکستانی ماہی گیروں کو یہاں گرفتار کیا گیا، جبکہ خالی کشتیاں بھی برآمد ہوتی رہی ہیں۔
تریپورہ اور مغربی بنگال کا بھی دورہ
وزیر داخلہ 5 جون کو تریپورہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اس خطے میں غیر قانونی دراندازی اور اسمگلنگ جیسے مسائل اہم چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔ جون کے وسط میں امت شاہ کے مغربی بنگال جانے کا بھی امکان ہے، جہاں حال ہی میں بی جے پی نے پہلی بار اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی ہے۔ اس دورے کے دوران وہ بنگلہ دیش سرحد پر نگرانی اور سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ سرحدی سکیورٹی کو جدید بنانے، نگرانی کے نظام کو بہتر کرنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور فورسز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ زمینی سطح پر تعینات اہلکاروں سے براہ راست رابطہ پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


