مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر کو قومی دارالحکومت نئی دہلی میں سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے نئے ہیڈکوارٹر کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ اس منصوبے کو ملک کے داخلی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی میں تعمیر کیے جانے والے اس ہیڈکوارٹر میں جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ سی آئی ایس ایف کو ایک مربوط اور جدید طرز کا مرکزی دفتر میسر آ سکے۔ سی آئی ایس ایف ملک کی اہم مرکزی مسلح پولیس فورسز میں شامل ہے، جو ہوائی اڈوں، اہم صنعتی اداروں اور حساس تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔
بڑھتی ذمہ داریوں کے مطابق بنیادی ڈھانچہ
حکام نے بتایا کہ نئی عمارت کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے گا۔ اس سے شہری ہوابازی، میٹرو ریل نظام اور دیگر اہم تنصیبات کی سکیورٹی سے متعلق بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دینے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے کا مقصد تنظیم کے اندر رابطہ، انتظامی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیت کو مزید بہتر بنانا بھی ہے۔
تقریب میں اعلیٰ حکام شرکت کریں گے
سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وزارتِ داخلہ اور سی آئی ایس ایف کے اعلیٰ افسران سمیت دیگر معزز شخصیات بھی شریک ہوں گی۔ سی آئی ایس ایف کا قیام 1968 میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں اس فورس کے صرف 3,129 اہلکار تھے، جبکہ اب اس کی تعداد بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ہوچکی ہے، جو ملک کی تقریباً تمام ریاستوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فی الحال سی آئی ایس ایف 361 اہم قومی تنصیبات، جن میں 70 ہوائی اڈے بھی شامل ہیں، کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ فورس کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 12 ریزرو بٹالینیں اور ملک بھر میں 8 جدید تربیتی ادارے بھی موجود ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


