Bharat Express DD Free Dish

Naxalism

امت شاہ نے جمعرات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نکسل تشدد سے متاثرہ افراد اور دیگر معذور لوگوں کے لیے منعقدہ امدادی آلات کی تقسیم کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ضروری سہولیات فراہم کرنا اور انہیں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ رہنما دعویٰ کرتے تھے کہ دفعہ 370 ہٹانے پرکشمیرمیں خون کی ندیاں بہیں گی، لیکن وہاں امن رہا اور ایک پتہ تک نہیں ہلا۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان اپوزیشن کے لیے ایک سخت سیاسی جواب کے طور پر سامنے آیا۔

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو نشہ سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا، مدھیہ پردیش کے عوام سے 31 دسمبر 2029 تک ریاست کو منشیات سے پاک بنانے کا عزم کرنے کی اپیل-

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک نیا ’’ڈیموگرافک چینج کمیشن‘‘ تشکیل دیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، اس کمیشن کا مقصد غیر معمولی آبادیاتی تبدیلیوں، ان کی وجوہات اور دراندازی سے متعلق قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔

چھتیس گڑھ کے بستر میں ہتھیار ڈالنے والے سابق نکسلائیٹوں نے تنظیم کی پرتشدد حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی کے باعث اب کئی نکسلائیٹ بندوق چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آ رہے ہیں…

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ نکسل واد اب خاتمے کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے 20 اگست 2019، 24 اگست 2024 اور 31 مارچ 2026 کی اہم تاریخوں کے ذریعے پوری حکمتِ عملی کی وضاحت کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ بائیں بازو کی شدت پسندی (نکسل واد) غربت یا ترقی کی کمی کی وجہ سے نہیں پھیلی بلکہ یہ ایک نظریاتی تحریک تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آدیواسی پہلے برسا منڈا، تلکا مانجھی اور رانی درگاوتی کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے، لیکن 1970 کی دہائی میں ماؤ نظریے نے اس صورتحال کو بدل دیا۔

چھتیس گڑھ کے بستر خطے میں ماؤ وادیوں کے خلاف جاری مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع دنتے واڑہ میں 36 انعامی ماؤ وادیوں سمیت مجموعی طور پر 63 ماؤ وادیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کی مرکزی دھارا میں واپس آنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت اور مرکز و ریاست کے باہمی تال میل کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔