Bharat Express DD Free Dish

Naxalism

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک نیا ’’ڈیموگرافک چینج کمیشن‘‘ تشکیل دیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، اس کمیشن کا مقصد غیر معمولی آبادیاتی تبدیلیوں، ان کی وجوہات اور دراندازی سے متعلق قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔

چھتیس گڑھ کے بستر میں ہتھیار ڈالنے والے سابق نکسلائیٹوں نے تنظیم کی پرتشدد حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی کے باعث اب کئی نکسلائیٹ بندوق چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آ رہے ہیں…

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ نکسل واد اب خاتمے کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے 20 اگست 2019، 24 اگست 2024 اور 31 مارچ 2026 کی اہم تاریخوں کے ذریعے پوری حکمتِ عملی کی وضاحت کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ بائیں بازو کی شدت پسندی (نکسل واد) غربت یا ترقی کی کمی کی وجہ سے نہیں پھیلی بلکہ یہ ایک نظریاتی تحریک تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آدیواسی پہلے برسا منڈا، تلکا مانجھی اور رانی درگاوتی کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے، لیکن 1970 کی دہائی میں ماؤ نظریے نے اس صورتحال کو بدل دیا۔

چھتیس گڑھ کے بستر خطے میں ماؤ وادیوں کے خلاف جاری مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع دنتے واڑہ میں 36 انعامی ماؤ وادیوں سمیت مجموعی طور پر 63 ماؤ وادیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کی مرکزی دھارا میں واپس آنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت اور مرکز و ریاست کے باہمی تال میل کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔

کر تویہ پتھ تھانے کی ایف آئی آر میں بی این ایس (بھارتی نیائے سنہیتا) کی متعدد دفعات لگائی گئی ہیں۔ ان میں عوامی امن کو خراب کرنا، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور قانون و نظم سے متعلق دیگر جرائم شامل ہیں۔ جبکہ پارلیمنٹ روڈ تھانے میں درج ایف آئی آر میں عوامی نظام کو خراب کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو یہ دعویٰ کیا کہ چھتیس گڑھ کے ابوجھماڑ اور شمالی بستر، جو کبھی نکسل کے گڑھ سمجھے جاتے تھے، اب وہ علاقہ پوری طرح نکسل فری قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ 2026 تک پورے ملک سے نکسل ازم کا خاتمہ ہو جائے گا۔

نکسلیوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سیکورٹی فورسزہتھیاروں کے زورپربسترکے امن کو خراب کرنے والوں کومنہ توڑ جواب دیں گی۔ انہوں نے کہا، "میں اپنے تمام قبائلی بھائیوں اوربہنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے گاؤں کے نوجوانوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں۔ وہ ہتھیار ڈال دیں اور قومی دھارے میں واپس آئیں۔ انہیں بسترکی ترقی میں بھی حصہ لینا چاہئے۔"