Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah: ’’مودی حکومت نے عالمی سطح پر بحال کی ہے ہندوستان کی ساکھ، عوام کو دلایا ہے ہندوستان کی ترقی کا یقین‘‘، وزیر داخلہ امت شاہ نے مختلف موضوعات پر دیے واضح بیان

قومی سلامتی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے نکسلی تحریک کے خاتمے، منی پور میں امن، اور آپریشن سندور پر روشنی ڈالی۔

وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ گیارہ برسوں میں ہندوستان کا نہ صرف داخلی ڈھانچہ بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ بحال کی۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں ایڈیٹر سنتوانا بھٹاچاریہ، نیشنل بیورو چیف جینت جیکب اور سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر راجیش کمار ٹھاکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بہت سے سوالوں کے جواب دیے۔

عوام کو ہے مودی حکومت پر اعتماد

امت شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 2014 سے قبل پورے ملک میں غیر یقینی کی فضا تھی، لوگ ہندوستان کے مستقبل سے مایوس تھے، مگر مودی حکومت نے عوام کے اعتماد کو بحال کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج 140 کروڑ عوام کو یہ یقین ہے کہ ہندوستان 2047 تک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔‘‘

جو ہم نے کیا، وہ 75 سالوں میں کوئی اور حکومت نہیں کر سکی

انھوں نے صحت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے بجٹ میں نمایاں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 60 کروڑ غریبوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کیں، جن میں رہائش، مفت علاج، پانی، بجلی اور راشن شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’یہ وہ کام ہیں جو 75 سال میں کوئی اور حکومت نہیں کر سکی۔‘‘

بی جے پی تمام ہندوستانی زبانوں کا احترام کرتی ہے

اس دوران انھوں نے ملک میں موضوع بحث زبان کے مسئلے پر بھی بات کی۔ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی تمام ہندوستانی زبانوں کا احترام کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ ریاستیں اپنی مادری زبانوں میں تعلیم دیں اور انتظام چلائیں۔ “ہم چاہتے ہیں کہ تمل ناڈو تمل میں، کیرالہ ملیالم میں اور آندھرا پردیش تیلگو میں چلے‘‘۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ کسی پر ہندی تھوپنا نہیں چاہتے، وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندوستانی زبانوں کو ترجیح دی جائے، نہ کہ باہری زبانوں کو۔

امت شاہ نے تعلیمی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے تحت حکومت نے انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ تعلیم علاقائی زبانوں میں فراہم کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ انھوں نے ریاستی حکومتوں، خاص طور پر تمل ناڈو، کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے یہاں تمل زبان میں تعلیم کیوں نہیں دیتے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر تمل ناڈو خود اپنی زبان میں تعلیم دینے سے گریز کرے گا، تو یہ تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

تمل ناڈو میں بدعنوانی عروج پر ہے

تمل ناڈو کی سیاست پر بات کرتے ہوئے انھوں نے ڈی ایم کے حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے، جن میں شراب، کان کنی، توانائی اور غذائی کٹس کی خریداری سے متعلق کئی ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے شامل ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عوام اس بدعنوانی اور اقربا پروری سے عاجز آ چکے ہیں۔ ساتھ ہی امت شاہ نے جنوبی ریاستوں کے مالیاتی حقوق سے متعلق اعتراضات کو ’’انڈیا بلاک کا جھوٹا بیانیہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت نے ٹیکس محصولات اور گرانٹس دونوں میں تاریخی اضافہ کیا ہے، خاص طور پر تمل ناڈو کو۔

قومی سلامتی کو دی جا رہی ہے ترجیح، ہم کر رہے ہیں سخت کارروائیاں

انٹرویو میں نکسلی تشدد، منی پور کی صورت حال، سائبر کرائم اور منشیات کے خلاف مہم جیسے اہم معاملات پر بھی بات کی گئی۔ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ 2026 تک نکسلی تشدد تقریباً ختم ہو جائے گا اور منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے اعتماد کی بحالی پر کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کی حکمت عملی عوامی رجحان اور زمینی حقیقتوں پر مبنی ہے، صرف سیاست پر نہیں۔

قومی سلامتی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے نکسلی تحریک کے خاتمے، منی پور میں امن، اور آپریشن سندور پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کے برعکس، بی جے پی نے صرف دفاعی حکمت عملی پر انحصار نہیں کیا بلکہ ترقیاتی اقدامات کے ساتھ سخت کارروائیاں کیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ’’نکسلی تشدد کے واقعات میں 52 فیصد اور سیکیورٹی فورسز و عام شہریوں کی اموات میں بالترتیب 71 اور 68 فیصد کمی آئی ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read