مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے قانونی ”پابندیوں“ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ملازمین کو 20 دن کی چھٹی پر بھیج دیا ہے، جس کے باعث انتخابی مہم کے دوران پارٹی کو عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی-پیک، جو گزشتہ کئی انتخابات میں ٹی ایم سی کی حکمت عملی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، نے اپنے ملازمین کو ای میل کے ذریعے ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر اپنا کام روک دیں۔ ای میل میں کہا گیا کہ کمپنی قانون کا احترام کرتی ہے اور جاری عمل میں مکمل تعاون کر رہی ہے، اس لیے وقتی طور پر سرگرمیوں کو معطل کیا جا رہا ہے۔ ملازمین سے کہا گیا ہے کہ 11 مئی کے بعد دوبارہ رابطہ کیا جائے گا، جب آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں پر دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے، جبکہ نتائج 4 مئی کو متوقع ہیں۔ اس تناظر میں آئی-پیک کا 20 دن کا وقفہ خاصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس مدت کے دوران نہ صرف ووٹنگ مکمل ہو جائے گی بلکہ نئی حکومت کی تشکیل بھی عمل میں آ سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ٹی ایم سی کے زمینی سطح پر جاری انتخابی منصوبوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ آئی-پیک کے کچھ کارکنان غیر رسمی طور پر یا گھروں سے کام جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ریاست کے تمام 294 حلقوں میں سرگرم کارکنان کس حد تک اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس فیصلے سے قبل کمپنی کے ملازمین کو سالٹ لیک سیکٹر فائیو میں واقع دفتر طلب کیا گیا تھا، جہاں کئی افراد کو کسی بڑی پیش رفت کا اندازہ ہو گیا تھا، تاہم رات گئے بھیجے گئے ای میل نے صورتحال کو مزید واضح کر دیا۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا میں گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور یہ محض الجھن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پارٹی کے مطابق آئی-پیک کی ٹیم مکمل طور پر ٹی ایم سی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور انتخابی مہم پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بنگال کے عوام اس طرح کی افواہوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ جمہوری انداز میں اس کا جواب دیں گے۔ تاہم وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ایک جلسے کے دوران الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسیاں ٹی ایم سی سے وابستہ تنظیموں اور کارکنوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو دباؤ ڈال کر کام چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ ان افراد کو اپنی پارٹی میں شامل کریں گی اور انہیں روزگار فراہم کریں گی۔
یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آئی-پیک کے کولکاتا دفتر اور کمپنی کے سربراہ پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپے مارے۔ اس دوران ممتا بنرجی خود موقع پر پہنچیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کے خفیہ انتخابی دستاویزات کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا، جہاں یہ کیس زیر سماعت ہے۔ مزید برآں، ای ڈی نے کوئلہ گھوٹالہ معاملے میں آئی-پیک کے ڈائریکٹر اور شریک بانی ونیش چندیل کو نئی دہلی میں گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اس گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آئی-پیک کی سرگرمیوں کا رکنا ٹی ایم سی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ٹی ایم سی اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے اور کیا یہ معاملہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


