نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی کے معاملے پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کے خدشات کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ حلقہ بندی کے بعد جنوبی ہند کی ریاستوں کی لوک سبھا نشستوں میں اوسط سے زیادہ اضافہ ہوگا اور کسی بھی ریاست کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔ امت شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں موجودہ 17 نشستیں بڑھ کر 26 ہو جائیں گی، جبکہ کرناٹک میں 28 سے بڑھ کر 42 نشستیں ہو جائیں گی۔ اسی طرح تمل ناڈو میں 39 سے بڑھ کر 59 نشستیں اور آندھرا پردیش میں 25 سے بڑھ کر 38 نشستیں ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے اپوزیشن کے اس خدشے کو بھی مسترد کیا کہ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنے سے جنوبی ریاستیں پارلیمنٹ میں کمزور ہو جائیں گی اور ہندی بولنے والی ریاستوں کو زیادہ فائدہ ملے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ یہ تصور غلط ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ وفاقی ڈھانچہ متاثر نہ ہو اور تمام ریاستوں کو مساوی اہمیت حاصل رہے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ موجودہ فیصد کے لحاظ سے بھی جنوبی ریاستوں کی نمائندگی تقریباً برقرار رہے گی۔ مثال کے طور پر کرناٹک کا موجودہ حصہ 5.15 فیصد ہے، جو حلقہ بندی کے بعد بھی تقریباً 5.14 فیصد رہے گا۔ اسی طرح آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو کے فیصد میں بھی معمولی تبدیلی ہوگی، جو ان کی سیاسی طاقت کو متاثر نہیں کرے گی۔
There will be no injustice to any southern state in delimitation. Speaking in the Lok Sabha.
https://t.co/1gBaGb8Vuj— Amit Shah (@AmitShah) April 16, 2026
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف نشستوں کی تعداد بڑھانا ہی نہیں بلکہ خواتین کے لیے ریزرویشن کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا بھی ہے۔ اسی لیے حلقہ بندی کے عمل کو خواتین ریزرویشن قانون سے جوڑا گیا ہے، تاکہ نئی نشستوں کے ساتھ خواتین کو مناسب نمائندگی دی جا سکے۔ بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والی پارٹیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی حلقہ بندی سے شمالی ریاستوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم امت شاہ نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہر قدم آئین اور وفاقی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے جو بل پیش کیے ہیں، ان میں آئینی ترمیم، یونین ٹیریٹریز قوانین میں تبدیلی اور حلقہ بندی شامل ہیں، اور یہ تمام اقدامات ملک کے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر امت شاہ نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر غیر ضروری سیاست نہ کرے اور حقائق کو سمجھتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حلقہ بندی کے بعد نہ صرف جنوبی ریاستوں کی نمائندگی برقرار رہے گی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں گی، جس سے جمہوری نظام کو مزید تقویت ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

