Urdu Conclave 2026

راہل گاندھی کے ’ہائیڈروجن بم ‘ والے بیان پربرہم ہوئے بی جے پی ایم جگدمبیکا پال، کہا- “استعفیٰ دو اورمعافی مانگو”

بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے راہل گاندھی پرزبردست تنقید کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو اپنے ’ہائیڈروجن بم‘ والے بیان پرملک سے معافی مانگنی چاہئے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے راہل گاندھی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراورکانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے ’ہائیڈروجن بم‘ والے بیان پربی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال برہم ہوگئے ہیں۔ جگدمبیکا پال نے کہا، “راہل گاندھی رکن پارلیمنٹ منتخب کئے گئے ہیں، انہیں اپنی زبان پردھیان دینا چاہئے۔ وہ ہائیڈروجن بم کی بات کررہے ہیں، جس کا مطلب تباہ کاری ہے۔ کیا وہ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی صورتحال بنانا چاہتے ہیں؟”

پٹنہ میں بی جے پی پرجم کربرسے تھے راہل گاندھی

دراصل، پیرکے روز راہل گاندھی پٹنہ میں بی جے پی پربرسے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا، “بی جے پی کے لوگ کالے جھنڈے دکھاتے ہیں، بی جے پی کے لوگ اچھی طرح سن لیجئے، ایٹم بم سے بڑا ’ہائیڈروجن بم‘ ہوتا ہے، بی جے پی کے لوگ تیارہوجاؤ، ’ہائیڈروجن بم‘ آرہا ہے، ووٹ چوری کی سچائی پورے ملک کوپتہ چلنے جا رہی ہے۔”

راہل گاندھی نے کہا تھا، “ہائیڈروجن بم کے بعد مودی جی اپنا چہرہ اس ملک کونہیں دکھا پائیں گے۔ انہوں نے کہا، “بہارمیں ایک نیا نعرہ چلا ہے، “ووٹ چور، گدّی چھوڑ”، جولوگوں کو بہت پسند آرہا ہے۔” انہوں نے پی ایم مودی کے چین دورہ پربھی بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا، “چین اورامریکہ میں بھی لوگ بول رہے ہیں، ووٹ چورگدّی چھوڑ۔”

واضح رہے کہ بہارمیں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔ ایسے میں کانگریس کے سینئرلیڈران کی پوری فوج بہارمیں ہے اورزبردست ریلیاں کررہی ہے۔ اسی موقع پر راہل گاندھی نے بی جے پی اورمرکزی حکومت کوگھیرتے ہوئے ’ہائیڈروجن بم‘ والا بیان دیا تھا۔ انہوں نے بہار کی ریلیوں میں عوام کے سامنے باربار یہ نعرہ دوہرا رہے ہیں کہ بی جے پی ووٹ چور ہے۔ حالانکہ بی جے پی راہل گاندھی کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read