Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine war : یوکرین جنگ پر کشیدگی برقرار، روس نے ٹرمپ سے جلد ملاقات سے کیا انکار

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روسی صدر اور ٹرمپ کے درمیان جلد ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

روس اور امریکہ کے درمیان ایک نئی پیش رفت میں کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جلد ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فوری طور پر ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ چینی خبر رساں ایجنسی شنہوانے روسی ایجنسی تاس کے حوالے سے بتایا کہ پیسکوف نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ایسی ملاقات کی تیاری کبھی بھی مختصر وقت میں ممکن ہے، مگر فی الحال اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت روس کی ترجیح یوکرین امن معاہدے کے امور پر گہرائی سے کام کرنا ہے۔

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں رہنما جلد ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں ملاقات کریں گے۔ تاہم، 22 اکتوبر کو ٹرمپ نے اچانک اس ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اس ملاقات کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ حالات موزوں نہیں لگ رہے تھے اور ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم مطلوبہ پیش رفت حاصل کر پائیں گے‘‘۔ دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے وضاحت دی تھی کہ بوداپیسٹ میں مجوزہ ملاقات منسوخ نہیں بلکہ مؤخر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کی تجویز خود امریکی فریق کی جانب سے دی گئی تھی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی 26 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اعلیٰ سطح پر مستقبل کے روابط کا انحصار مکمل طور پر امریکی موقف پر ہے‘‘۔ دونوں رہنماؤں کی آخری براہِ راست ملاقات 15 اگست کو الاسکا کے اینکوریج میں واقع جائنٹ بیس ایلمنڈورف رچرڈسن میں ہوئی تھی۔ اس اجلاس میں روس-یوکرین جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی اہم معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ یہ ملاقات 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی آمنے سامنے ملاقات تھی۔

ادھر دوسری جانب، روس نے ہفتے کی شب یوکرین پر نئے حملے کیے۔ روسی میڈیا کے مطابق، ڈرون اور میزائل حملوں میں دو بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ تقریباً 58 ہزار گھروں میں بجلی منقطع ہو گئی۔ حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 11 اور 14 سال تھیں۔ یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو چکی ہیں اور سفارتی سطح پر کسی بڑی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read