Bharat Express DD Free Dish

Ukraine Attack

یوکرین نے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایک بڑی آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی دفاعی نظام نے ہفتے سے اب تک 1600 سے زائد ڈرونز کو روکا، جن میں 450 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ ملاحوں اور شہری جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسے علاقوں میں بین الاقوامی بحری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، جہاں خطرات کی واضح نشاندہی ہو چکی ہو۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کی اینٹی بیلسٹک دفاعی صلاحیت کے حوالے سے شراکت دار ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے یوکرین کے عوام کے تحفظ کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں، اس لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس بار ماسکو نے بھی یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا اثر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے علاقے میں تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع ایک تیل ریفائنری کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے مقابلے میں تجارتی معاہدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ عام طور پر ٹیرف خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتے۔

20 جنوری کی رات روس کے ریپبلک آف ادیغیا کے تختاموکِسکی ضلع میں ایک ڈرون حملے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادیغیا کے سربراہ مراد کومپیلوف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر اس کی اطلاع دی تھی۔ کومپیلوف کے مطابق زخمیوں میں سے نو افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روسی صدر اور ٹرمپ کے درمیان جلد ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

یوکرین نے روس کے توآپسے پورٹ پر بڑا ڈرون حملہ کیا، جس سے تیل کے ٹرمینل اور ریفائنری کو شدید نقصان پہنچا ہے

روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملوں کی مہم کے تازہ ترین حملے کی وجہ سے جمعرات کو پورے ملک میں پاؤر کٹ اور پابندیاں لگ گئیں۔ یوکرینی وزیر اعظم نے ماسکو کے ہتھکنڈوں کو ’’منظم توانائی کی دہشت گردی‘‘ قرار دیا ہے۔