Bharat Express DD Free Dish

Ukraine and Russia

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر زیلینسکی ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مالدووا سے اوسلو روانہ ہو رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا خصوصی طیارہ آسمان میں بلند ہوا، ایک مشتبہ ڈرون اچانک طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرون طیارے سے کتنی دوری پر تھا، تاہم اس غیر متوقع ڈرون خطرے کے باعث زیلینسکی کی پرواز کو کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

20 جنوری کی رات روس کے ریپبلک آف ادیغیا کے تختاموکِسکی ضلع میں ایک ڈرون حملے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ادیغیا کے سربراہ مراد کومپیلوف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر اس کی اطلاع دی تھی۔ کومپیلوف کے مطابق زخمیوں میں سے نو افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روسی صدر اور ٹرمپ کے درمیان جلد ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

یوکرینی حکومت نے اسے جعلی اور روسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے، جبکہ جنرل سٹاف نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ مغربی انٹیلی جنس اور آزاد ذرائع جیسے میڈیا زونا اور میڈوزا کے مطابق، یوکرینی نقصانات 100,000 سے 130,000 ہلاک اور زخمی ہیں۔

عالمی برادری، خاص طور پر ترکیہ جیسے ثالث ممالک، اس پیش رفت کو ممکنہ طور پر تنازع کے خاتمے کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاہم، مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے لچک دکھانے اور بین الاقوامی دباؤ پر ہوگا۔

یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ایئر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔

دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے یوکرین کو روس کے خلاف امریکی اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی، امریکا کی جانب سے یوکرین کو دیے گئے میزائل 300 کلومیٹر تک باآسانی ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے تقریباً 2 سال میں پہلی بار کسی بڑے مغربی رہنما کو کال کی گئی، جرمنی کے وائس چانسلر اولاف شولز نے کیف کی جانب سے اعتراض کے باوجود روسی صدرکو کال کی۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کے روز کہا کہ دو روسی بیلسٹک میزائل یوکرین کے وسطی مشرقی علاقے میں اساتذہ کے انسٹی ٹیوٹ اور ہسپتال کے قریب گرے ہیں ، جس کے نتیجے میں کم از کم 41 افراد ہلاک اور 180 زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان ماریا زخاروا نے کہا کہ یوکرین نے کرسک نیو کلیئر پاور پلانٹ پر حملے کی تیاری شروع کر دی ہے، روس کی پارلیمنٹ ڈوما نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ یوکرینی فوج کو روس کے علاقے کُرسک میں ایٹمی پاور پلانٹ پر حملے سے باز رکھے۔