US B52 Bomber Plane Crash: امریکہ میں بی-52 بمبار طیارہ حادثے میں لوگوں کی درد ناک موت، ماہرین نے کنٹرول سسٹم یا انجن میں خرابی کا ظاہر کیا شبہ
عینی شاہدین کے مطابق زمین سے ٹکراتے ہی طیارے میں زور دار دھماکا ہوا اور اس کے ملبے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے فوراً بعد ایڈورڈز ایئرفورس بیس کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ وہاں آنے اور جانے والی دیگر پروازوں کا رخ قریبی فوجی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔
Big Decision on AI & Supercomputing: اے آئی اور سپر کمپیوٹنگ پر بڑا فیصلہ! بھارت سلوواکیہ کی یونیورسٹی میں اے آئی چیئر قائم کرے گا، وزیراعظم مودی کو سرکاری اعزاز سے نوازا گیا
وزیراعظم نریندر مودی کے سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا پہنچنے پر وہاں کے وزیراعظم رابرٹ فیتسو نے تاریخی براتسلاوا قلعے میں ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، خلائی تعاون، پُرامن جوہری توانائی، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل اختراع، تعلیم، ثقافت اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
Ban on Social Media: برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر کا اہم فیصلہ، ذہنی صحت کی خاطر 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی
برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین اور ڈنمارک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
Slovakian PM Congratulates PM Modi: سلوواکیہ کے وزیراعظم نے پی ایم مودی کو ’غیر معمولی کامیابی‘ پر دی مبارکباد، بولے— ’یہ ایک سیاسی معجزہ ہے‘
سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیتسو نے اپنے بھارتی ہم منصب وزیراعظم نریندر مودی کو ایک تاریخی سیاسی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے ’’سیاسی معجزہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والے وزیراعظم بننے پر مودی کی قیادت اور سیاسی استحکام کی تعریف کی۔
Us Iran Peace Deal: امریکہ-ایران امن معاہدہ: نیتن یاہو بن سکتے ہیں بڑی رکاوٹ، کیا 19 جون کو امریکہ-ایران ڈیل پر واقعی مہر لگے گی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے اور 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر دستخط کی تجویز سامنے آئی ہے، لیکن اس معاہدے کی کامیابی ابھی بھی کئی بڑے سوالات کے گھیرے میں ہے۔ ایک طرف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں اچانک تبدیلی نے حیران کیا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل کے سخت مؤقف نے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
US-Iran Peace Deal: ”جنگ کا میدان نہیں چھوڑیں گے…‘‘ بنجامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست سے بوکھلایا اسرائیل، ایران معاہدہ کو کردیا مسترد
اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
Iran _ US Peace Deal: ہرمز پر کنٹرول، ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر واشنگٹن راضی ،جانئے کیا ہیں امن معاہدے کے 14 اہم نکات؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا ذکر معاہدے کے حتمی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ایران اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیتا رہا ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے الگ معاملہ ہے
Iran – US Peace Deal: امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، ٹرمپ کا بڑا اعلان؛ آبنائے ہرمز کھولنے کی بھی منظوری
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
Oman Gulf MSV Virat 1 Sinks: خلیج عمان میں ڈوب گیا ایک اور بھارتی جہاز، انجن ہو گیا تھا فیل، 14 بھارتیوں کی بچا لی گئی جان
خلیجِ عمان میں میکانائزڈ سیلنگ ویسل ’وراٹ 1‘ ڈوب گیا۔ اس کا انجن خراب ہو گیا تھا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ وراٹ 1 پر سوار تمام 14 بھارتی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
Iran-US negotiations: امریکہ-ایران مذاکرات کے سلسلے میں قطری وفد پہنچا تہران، امن معاہدے پر سفارتی سرگرمیاں تیز، ایران میں مجوزہ معاہدے کے خلاف مظاہرے
دوسری جانب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگائے اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔





