Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایک اور این آر آئی نے کہا کہ پی ایم مودی کی آمد ہمارے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ ایک بار ہم سے ملے۔ ہم ایک عرصے سے اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم اس کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم وزیر اعظم مودی کو G-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے کینیڈا کے وزیر اعظم کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس دوران کئی این آر آئیز نے اپنے ہاتھوں میں پی ایم مودی کے استقبال کے لیے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’ویلکم پی ایم مودی‘۔

تجزیہ کار اور رہنما وزیر اعظم مودی کی کینیڈا آمد کو بھارت-کینیڈا تعلقات میں ایک ممکنہ "ٹرننگ پوائنٹ" کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے دور میں تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ جبکہ وزیر اعظم مودی G7 سمٹ میں عالمی اور "ساوتھ-ساوتھ" ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، یہ گینگ کریک ڈاؤن ان کے دورے کو ایک مقامی مگر انتہائی اہم زاویہ فراہم کرتا ہے۔

 ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب میں موجود موساد کے ہیڈ کوارٹرکومیزائل حملے میں تباہ کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، یہ کارروائی اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کے تحت کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، موساد کی سرگرمیوں کو چلانے والا یہ اہم مرکز پوری طرح برباد ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

ٹرمپ نے ’ٹرتھ‘ سوشل پر لکھا، ’’پبلسٹی سیکر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ’جنگ بندی‘ پر کام کرنے کے لیے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے واپس ڈی سی چلا گیا۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

امریکہ نے ایران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی لوگوں کو تہران خالی کردینا چاہئے۔ وہیں دوسری طرف اسرائیل کے کئی شہروں میں دھماکے کی خبر ملی ہے۔ تل ابیب کے شمال میں ہرجلیا میں خطرناک دھامکہ ہوا ہے۔ 

این آر آئی ترپتی جین نے کہا کہ یقینی طور پر وزیر اعظم مودی کی آمد آنے والے دنوں میں ہندوستان اور کناڈا کے تعلقات کو مزید خوشگوار بنائے گی۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ماضی میں جس طرح تلخی آئی تھی اب وہ دور ہو جائے گی۔

سربراہی اجلاس کے سرکردہ رہنماؤں نے کہا، "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہم اس کی سلامتی کے لیے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی اس سربراہی اجلاس میں بطور مہمان رہنما شرکت کریں گے۔ یوکرین اور میکسیکو بھی G-7 کے رکن نہیں ہیں، لیکن دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کو اس بار سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔