Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوج بھیجی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

ان کے علاوہ جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود، لڑاکا طیارے اور لاجسٹک سپورٹ سسٹم بھی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی شہروں پر میزائل حملوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

ان قیاس آرائیوں کو اس وقت تقویت ملی جب ایک ویب سائٹ نے کچھ سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، جن میں قطر کے العدید ایئربیس پر موجود امریکی فوجی طیارے — جیسے USAF C-130، C-17، انٹیلیجنس-سرویلنس-ریکونیسنس (ISR) پلیٹ فارمز، اور ایندھن کے ٹینکرز — کے ساتھ ساتھ بحرین میں تعینات امریکی بحری جہازوں کی واپسی بھی دکھائی گئی۔

اگر امریکہ تنازعہ میں کودتا ہے تو امید جتائی جا رہی کہ ایران نہ صرف امریکی اثاثوں پر بلکہ اہم علاقائی اتحادیوں پر بھی حملہ کر سکتا ہے، جس میں خلیجی ممالک ممکنہ طور پر پہلے اہداف میں شامل ہوں گے۔

ایران کے ذریعہ اسرائیل کے بیرشیبا کے سوروکا اسپتال پرکئے گئے حملے کے بعد اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای پرسیدھا حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وزیردفاع کیٹز کے مطابق ایران نے جنگی جرم کیا ہے اوراس کے لئے راست طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای ذمہ دارہیں۔ ہم اب ان کو ہی ختم کردیں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کوایک بارپھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بہت بڑی بھول کی ہے اور وہ اس غلطی کی سزا ضرور پائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کے خون اوراپنے علاقے میں ہوئے حملوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کسی قسم کی مداخلت کی تو پورے خطے میں کھلی جنگ شروع ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یواین ایس سی) میں اسرائل-ایران جنگ سے متعلق ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ ایران نے میٹنگ کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ کی راست شراکت ہے اور اس کی وجہ سے صورتحال خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے گروہ اب بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا بھر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ان پر عمل درآمد کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ وہ تہران میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ کررہی تھی، اسی دوران لویجان علاقہ میں بمباری ہوئی۔

یہ صورت حال نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادی اسرائیل کے لیے بھی ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ فردو پلانٹ، اس وقت مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل جنگ کا مرکز بن چکا ہے، جس کا ہر ایک قدم پوری دنیا پر اثر ڈال سکتا ہے۔