Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران پر امریکی حملوں پر ردعمل آنے شروع ہو گئے ہیں اور پہلے کچھ بیانات لاطینی امریکہ سے ہی آئے ہیں اور ان بیانات میں امریکہ کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ ایران کو اس تنازعے کو ختم کرنے پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ’’سنگین نتائج‘‘ سے خبردار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب تنازع ختم کرنے پر راضی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے امن قائم کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو اس پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے۔

امریکہ نے اب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں کھل کر مداخلت کی ہے۔ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین بڑے جوہری مقامات فورڈو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس حملے کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جانکاری سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ‘ پر دی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔

اے ایس پی آئی کی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ صوبے میں تقریباً 65 فیصد مساجد کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہوئی ہیں۔ کئی مساجد سے گنبد اور مینار ہٹا دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے خبروں میں تھے۔ وہ کئی مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ دنیا کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان جنگ بندی کی وجہ تھے۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے حال ہی میں ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ اورپاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیرکے درمیان ہوئے لنچ سے متعلق بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وہی کرتا ہے، جس میں اس کواپنا فائدہ لگتا ہے۔ وہ کسی اورملک کی فکرنہیں کرتے۔