Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اسلامی انقلابی گارڈ کاپرس (آئی آرجی سی) کے ترجمان ابراہیم زول فاغری نے کہا کہ امریکہ براہ راست جنگ میں داخل ہوا ہے اور ایران کی "مقدس سرزمین" کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے جنگ شروع کی، ہم اسے ختم کریں گے۔

اسرائیل اورایران کے درمیان جاری جنگ میں امریکہ کے داخلے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ہفتے کی رات امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پرحملہ کیا۔ دوسری جانب، ایران کی درخواست پرپاکستان، چین اورروس کی حمایت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا نے ایک اسرائیلی ہرمیس 900 ڈرون کی فوٹیج شائع کی ہے ،جسے آج ہی ایرانی  فوجیوں نے مار گرایا تھا۔ لرستان نیوز آؤٹ لیٹ نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ ڈرون کو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) فورسز کی جانب سے صوبہ لرستان کے خرم آباد میں ایک آپریشن کے دوران مار گرایا گیا۔

یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان یہ ایسوسی ایشن معاہدہ تجارت، سیاسی مکالمے، اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے آرٹیکل 2 میں انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام کو معاہدے کا "لازمی جزو" قرار دیا گیا ہے۔

روس کی ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے جوہری تنازع کا حل سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ہمیشہ سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کار اس حملے کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

اس حملے میں خاص طور پر B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار اور F-22 ریپٹر جیٹس کا استعمال کیا گیا، جو ریڈار سے اوجھل رہنے کی اپنی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ B-2 بمبار طیاروں کا استعمال خاص طور پر ایران کے زیرِ زمین ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایران میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 950 افراد ہلاک جب کہ 3450 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر سیلی نیبنزیا نے کہا، 'امریکہ نے بھان متی کا پٹارا  کھول دیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا نئی آفات لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے امریکا کو ثالثی کی پیشکش کی لیکن امریکی رہنما مذاکرات میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے۔