Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

پیر کی دیر رات ایران نے عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر چھ میزائل داغے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے اس آپریشن کو فتح کا اعلان کا نام دیا۔ حالانکہ، امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے زیادہ تر میزائلوں کو روک دیا اور قطری اڈوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوا۔

واٹس ایپ پر پابندی کے بعد امریکی کانگریس کے ملازمین سرکاری موبائل یا کمپیوٹر پر اس کا استعمال نہیں کر پائیں گے۔ اس کی جگہ انھیں مائیکروسافٹ ٹیمس، سگنل یا فیس ٹائم جیسے متبادل کا استعمال کرنا ہوگا۔

جنگ بندی کے بعد ایران نے موساد کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ ایران نے سائبرجاسوسی اورغداری کے الزام میں اپنے ملک سے موساد کے 6 جاسوسوں کوگرفتار کر لیا ہے۔ یہ جاسوس خفیہ معلومات اسرائیل کو بھیج رہے تھے اور مقامی لوگوں کو مشتعل کر رہے تھے۔

اسرائیلی افسران نے اظہارِ فکر کیا ہے کہ اگر ایران کی طرف سے میزائل حملہ ہوتا ہے اور وہ کسی بندرگاہ پر کھڑی الیکٹرک گاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے تو خوفناک آگ لگ سکتی ہے، جسے بجھانا تقریباً ناممکن ہوگا۔

ایکسیوس کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی نے ایران کو سمجھوتہ کے لیے بلایا توایران نے اپنی شرائط پیش کیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہیں، جب اسرائیل حملہ روکے۔ امریکہ نے قطرکی سفارش پرجنگ بندی شروع کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے "12 روزہ جنگ" کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران کے "ظالم" اس کی "پوری قیمت" ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر غیر معمولی فضائی حملوں کے چند دن بعد، ایران کے جوڈیشری چیف غلام حسین محسنی ایجی نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبہ میں گرفتار افراد کے مقدمات کی سماعت کو تیز کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد اور قطری امیر کے درمیان یہ رابطہ علاقائی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات 2021 میں خلیجی بحران کے خاتمے کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں، جب سعودی عرب نے قطر پر عائد سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ختم کی تھیں۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔