Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

خبر رساں ایجنسی فوکس تائیوان کے مطابق وزارت اقتصادی امور (MOEA) کے تحت سرمایہ کاری کے جائزہ کے محکمے نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کمپنی Foxconnکے منصوبے کی منظوری دے دی۔

ممدانی، جو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے، پہلے مسلم اور بھارتی نژاد میئر بننے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی مہم کو برنی سینڈرز اور ایلیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی حمایت حاصل تھی۔

ٹرمپ نے کئی مواقع پر، بشمول سعودی عرب اور رامافوسا کے ساتھ ملاقاتوں میں، اس دعوے کو دہرایا۔ تاہم، بھارتی حکام نے اسے کشمیر کے تنازع کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جو بھارت کے دو طرفہ موقف کے خلاف ہے۔

یہ قدم IAEA کی ایک رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں تہران پر تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے جوہری مواد کی موجودگی کے بارے میں پوری طرح سے وضاحت نہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ ایجنسی نے تعاون کی پیشکش کو ’تسلی بخش سے کم‘ بتایا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہ راست حملے کر چکی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن اسرائیل کے اس نئے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمنی کی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2019 کو جب جیش محمدکے دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، تو ملک دنگ رہ گیا۔ اس حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہوئے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ سرکاری کنٹرول کے تحت ہونے کی وجہ سے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ روس کا غیر ملکی میسجنگ پلیٹ فارمز کو محدود کرنے یا ان کی رفتار کم کرنے کا ممکنہ منصوبہ بھی تشویش کا باعث ہے۔

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان لوگوں کو پرسکون ہونا پڑے گا، یہ مضحکہ خیز ہے۔ میں نے جو دیکھا وہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا، نہ اسرائیل کا حملہ اور نہ ہی ایران کی جوابی کارروائی۔

اتوار کو پینٹاگون میں وزیر دفاع کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ اسے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا تھا۔