Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

قطر میں موجود العبید امریکی ایئربیس پر ایران نے کل چھ میزائلیں داغی ہیں، جن کو فضا میں ہی مار گرایا گیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ایران کے بوشہر جوہری مقام پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس سے خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، قطر، عراق اور بحرین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران میں اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، جس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات دونوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

ایران ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ 10 دنوں زیادہ سے جنگ جاری ہے۔ اب اس جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا ہے۔ اس نے ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پرحملہ کردیا ہے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صنعتی گھرانے کا ہیڈ کوارٹرکئی سال تک ایران کے دارالحکومت تہران میں رہا۔

2025 میں چین سے ایران کو بھیجے گئے 1000 ٹن سوڈیم پرکلیوریٹ سے 800 بیلسٹک میزائلوں کا ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کھیپ ایران کی عسکری تنظیم IRGC (اسلامی انقلابی گارڈ کور) کے لیے تھی۔

خامنہ ای کے خط میں کہا گیا ہے کہ پوتن کو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف زیادہ واضح اور مضبوط انداز میں سامنے آنا چاہیے اور ایران کی کھلی حمایت کرنی چاہیے۔ تاہم تہران کس قسم کی مدد چاہتا ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد 1960 کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آئی ڈی ایف کے مطابق اس کے ڈرون حملے کے نشانے پر ایرانی فوج اور حکومت کے طیارے شامل تھے۔ ان میں ایف-14 اور ایف-5 جنگی طیارے اور اے ایچ-1 ہیلی کاپٹر شامل تھے۔

حکومت کے فیکٹ چیک یونٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے دوران امریکہ نے ہندوستانی فضائی حدود کا استعمال ایران کے خلاف طیارہ بھیجنے کے لئے کیا تھا۔