ایران سے جنگ کے بعد اسرائیل نے موساد کے افسران اور عام فوجیوں کے لئے نیا فرمان جاری کیا ہے۔ اس کے تحت اب سبھی افسران اور فوجیوں کو لازمی طورپراسلام کی تعلیم لینی ہوگی۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ اس کے لئے جلد ہی نئے نصاب کی شروعات کی جائے گی۔ اسرائیل نیشنل نیوز کے مطابق، اکتوبر 2023 میں جو حماس نے اسرائیل پرحملہ کیا تھا، اس کی جانچ میں خفیہ چوک کو وجہ مانا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرا فسران کو پہلے سے عربی زبان کی جانکاری ہوتی توحالات کچھ اورہوتے۔
لازمی کی گئی ہے اسلامی تعلیم
گیلی تجاہل نے امن کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکم افسران کو سنا دیا گیا ہے۔ جلد ہی اسے عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت نے کہا ہے کہ سبھی افسران کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے، چاہے ان کے عہدے کا زبان سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ محکمہ نے آئندہ سال تک سبھی افسران کو 100 فیصد اسلامی اسلامی نصاب پڑھانے اور 50 فیصد عربی زبان سکھانے کا ہدف رکھا ہے۔ اس کے لئے جلد ہی اسرائیل میں افسران کو ٹریننگ دی جائے گی۔ لازمی کرنے کی 4 وجوہات بتائی گئی ہیں۔
اسرائیل مسلم ممالک سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے پڑوس میں اردن، ترکی، سعودی عرب، یمن اورلبنان جیسے ممالک ہیں، جواسلامی ملک ہیں۔ اسرائیل کے بیشترپڑوسی ممالک میں عربی ہی بولی جاتی ہے۔ عبرانی زبان صرف اسرائیل میں رائج ہے۔
اسرائیل اپنا اصل دشمن ایران کومانتا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں اپنے پراکسی نیٹ ورک کے ذریعہ ایران میں حملہ کیا، لیکن ایران نے بھی اس کا بھرپور جواب دیا۔ ایران اب اسرائیل کی روش کو بھی سمجھ چکا ہے، اس لئے وہ ہر وقت تیارہے۔ اسرائیل نے یہ قدم آگے کی راہ کو آسان بنانے کے لئے اٹھایا ہے۔
اسرائیل میں اعلیٰ کمانڈر زبان کی وجہ سے چیزوں کوآسانی سے ڈی کوڈ کرسکتے ہیں، لیکن نچلی سطح پرانہیں کامیابی نہیں ملتی۔ اسلامی تعلیم اورعربی زبان کے نفاذ کے پیچھے بھی یہی ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔
موساد کا اصل خوف حوثیوں سے ہے۔ موساد کے اہلکارحوثی باغیوں کی زبان آسانی سے ترجمہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس مشکل کوبھی ختم کرنے کے لئے اسرائیل نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسرائیل اسے کیسے کرے گا نافذ؟
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


