Bharat Express DD Free Dish

More than 100 premature babies in Gaza at risk: غزہ میں 100سے زائد نومولود بچوں سمیت ہزاروں مریضوں کی جان خطرے سے دوچار،بیشتر ہسپتال بجلی کے بحران کا شکار

عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے صحت کے شعبے کو “گھٹنوں کے بل” قرار دیا ہے، جہاں ایندھن، طبی سامان کی کمی اور اسرائیلی حملوں سے مسلسل ہونے والے زخمیوں کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے ایندھن کی شدید قلت نے الشفاء اور ناصر ہسپتالوں سمیت خطے کے بڑے طبی مراکز کو بند ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ تازہ ترین  رپورٹ کے مطابق، 100 سے زائد قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں کیونکہ ان ہسپتالوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔ الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمہ نے بتایا کہ ڈائیلاسز ڈیپارٹمنٹ بند کر دیا گیا ہے تاکہ انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) اور آپریشن رومز کے لیے بجلی بچائی جا سکے، جو چند منٹوں کے لیے بھی بجلی کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔ ناصر ہسپتال کے ترجمان محمد ساکر نے بتایا کہ ہسپتال کو روزانہ 4,500 لیٹر ایندھن کی ضرورت ہے، لیکن اس کے پاس صرف 3,000 لیٹر باقی ہیں، جو صرف 24 گھنٹوں کے لیے کافی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے صحت کے شعبے کو “گھٹنوں کے بل” قرار دیا ہے، جہاں ایندھن، طبی سامان کی کمی اور اسرائیلی حملوں سے مسلسل ہونے والے زخمیوں کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے حال ہی میں غزہ سے واپسی کے بعد کہا کہ بہترین طبی عملہ بھی ایندھن اور ادویات کے بغیر کام نہیں کر سکتا، جس سے ہسپتالوں کا چلنا “ناممکن” ہو جاتا ہے۔ ناصر ہسپتال سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ڈاکٹرز کو شدید گرمی میں پسینے سے شرابور حالت میں سرجری کرتے دیکھا گیا، جہاں ایئر کنڈیشننگ اور پنکھوں سمیت تمام سہولیات بند ہیں۔ مزید برآں، میڈیسنز سانس فرنٹیئرز (MSF) نے 8 جنوری 2025 کو رپورٹ کیا تھاکہ ناصر ہسپتال کے نومولود نگہداشت یونٹ میں تین بچوں اور چار نومولود بچوں کو مکینیکل وینٹیلیشن پر رکھا گیا ہے، جو ایندھن کی کمی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

وہیں اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ حماس ہسپتالوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کی حماس اور غزہ کے طبی عملے نے تردید کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے الشفاء ہسپتال کے باہر 300 لیٹر ایندھن فراہم کیا تھا، لیکن حماس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ حماس نے کہا کہ ہسپتال غزہ کی وزارت صحت کے ماتحت ہے۔ عالمی اداروں نے فوری طور پر ایندھن کی سپلائی بحال کرنے اور ہسپتالوں کو تحفظ دینے کی اپیل کی ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ مقامات ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے جاری تنازع میں 57,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس سے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں سمیت ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read