امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو عالمی تجارت پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے متعدد ممالک پر ایک ساتھ بھاری محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے الجزائر، عراق، لیبیا، سری لنکا (30فیصد)، برونائی، مالڈووا (25فیصد) اور فلپائن (20فیصد) پر درآمدی ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے برازیل پر بھی 50 فیصد کا براہ راست ٹیرف لگا دیا اور اسے اب تک کی سخت ترین کارروائی قرار دیا۔ یہ تمام ڈیوٹیز یکم اگست سے لاگو ہوں گی۔اب برازیل نے بھی ٹرمپ کے ٹیرف کے نفاذ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو اقتصادی باہمی کارروائی سے خبردار کیا۔ سلوا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکہ نے برازیل پر یکطرفہ طور پر محصولات میں اضافہ کیا تو برازیل بھی اسی سطح پر جوابی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ بولسونارو کو اس وقت بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔
برازیل کے صدر لولا دا سلوا کے دفتر نے امریکی محصولات کے جواب میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ اگر کوئی ملک یکطرفہ طور پر محصولات میں اضافہ کرتا ہے تو برازیل اقتصادی باہمی قانون کے تحت جواب دے گا۔اس سخت پیغام سے امریکہ اور برازیل کے درمیان ممکنہ تجارتی جنگ کا خدشہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ برازیل امریکہ کے ساتھ منصفانہ تجارت نہیں کر رہا ہے۔
In light of the public statement made by U.S. President Donald Trump on social media on the afternoon of Wednesday (9), it is important to highlight the following:
Brazil is a sovereign nation with independent institutions and will not accept any form of tutelage.
The judicial…
— Lula (@LulaOficial) July 9, 2025
ٹرمپ کے اعلان کے بعد برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ برازیل ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، جو کسی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔ لولا نے لکھاکہ برازیل ایک خودمختار ملک ہے، جس کے اپنے خود مختار ادارے ہیں۔ ہم کسی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کریں گے۔صدر لولا نے یہ بھی واضح کیا کہ سابق صدر جیر بولسونارو کے خلاف جاری قانونی کارروائی مکمل طور پر برازیل کی عدلیہ کے ماتحت ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ اثر انداز نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ “بغاوت کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف جاری مقدمات ہمارے عدالتی نظام کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ انہیں کسی دھمکی یا بیرونی مداخلت سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اظہار رائے کی آزادی پر بھی اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل میں آزادی کا مطلب نفرت، تشدد یا گالی گلوچ پھیلانے کی آزادی نہیں ہے۔ حکومت کسی بھی قسم کی آن لائن نفرت انگیز تقریر، نسل پرستی، بچوں سے زیادتی یا دیگر جرائم کو برداشت نہیں کرے گی۔ ملک میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو خواہ وہ ملکی ہو یا غیر ملکی، برازیل کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنا ہو گی۔
ٹرمپ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا گیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل پر محصولات عائد کرنے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ برازیل نے امریکی انتخابات اور آزادی اظہار پر حملہ کیا ہے۔ جواب میں برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے ٹرمپ کے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کو مسخ کرنے والا قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ 15 سالوں میں امریکہ اور برازیل کے درمیان تجارتی توازن امریکہ کے حق میں رہا ہے، امریکہ نے اس عرصے میں مجموعی طور پر 410 بلین ڈالر کا منافع کمایا ہے اور یہ کوئی دعویٰ نہیں ہے بلکہ امریکی حکومت کے اعداد و شمار خود یہ بتاتے ہیں۔ اس لئے صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
