Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں ساراتوف آئل ریفائنری، اینگلز فوجی ایئربیس اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی حملوں میں 16 یوکرینی علاقے متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کے مدورا جزیرے کے قریب ایک مسافر فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 41 افراد لاپتا ہیں۔

روم کے اس فیصلے پر اسپین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لین کو خط لکھ کر یورپی یونین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اس خط میں اسپین کی حمایت اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک کو مشترکہ حکمت عملی پر واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اضافی احتیاط اختیار کریں اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں اچانک خلل پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے شہری اپنی سفری منصوبہ بندی احتیاط سے کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فون کال وجہ بنی؟ جانیے پورا معاملہ۔

حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کے اسباب کا تعین کیا جا سکے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ سال بھی انڈونیشیا میں ایک مسافر بردار جہاز میں اسی نوعیت کی ہولناک آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جولائی 2025 میں شمالی سولاویسی صوبے کے قریب کے ایم بارسلونا 5 نامی جہاز میں آگ لگنے سے تین افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،

روسی حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ حملے کا اصل ہدف کون تھا، لیکن ماسکو میں اس واقعے کو یوکرین جنگ سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ریستوران ماسکو کی اسٹالن دور کی مشہور بلند عمارتوں میں سے ایک میں واقع ہے۔

زلزلے کے بعد ہونے والے ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد کو نکالا گیا۔ ان میں سے سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ زخمی ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں اب بھی عمارت کے اندر ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔صوبائی حکام کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں قائم 406 امدادی پناہ گاہوں میں 9 ہزار 400 سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں،

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد اطراف کی متعدد سڑکیں، جن میں قریبی پل بھی شامل ہے، بند کر دی گئی ہیں۔ گاڑی چلانے والوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور بند علاقے میں داخل ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکام نے کہا کہ حملہ آور یا حملہ آوروں کی تعداد، شناخت اور کسی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔