Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آئندہ پانچ دنوں تک ایران کی توانائی تنصیبات پر کوئی فوجی حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایران کے سفارت خانے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر وصول کیے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے تمام دعوے مکمل طور پر جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنا ناگزیر ہے۔ یہ مؤقف بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں سامنے آیا، جس میں ایرانی وزارت خارجہ کے خیالات کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔

ایران نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس پر اسپتالوں، امدادی مراکز اور اسکولوں پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، لیکن اس نے ان کا جواب اسی نوعیت میں نہیں دیا۔ تاہم اگر بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اسی انداز میں جواب دے گا۔

نیویارک کے لا گارڈیا ایئرپورٹ پرایک بڑا حادثہ ہوا، جب ایئرکناڈا ایکسپریس کا CRJ-900 طیارہ رن وے پرایک فائر بریگیڈ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں دو لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ حادثہ کے بعد ایئرپورٹ کو بند کردیا گیا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے توانائی مراکز بھی ایران کی دسترس میں ہیں اور انہیں ایک ہی دن میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

سائرن کی گونج میں زندگی، جنوبی اسرائیل کے شہروں میں میزائل حملوں سے 100 سے زائد افراد زخمی۔ بھارتی نژاد اسرائیلی انفلوئنسر ریوایٹل موزیش نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہری مسلسل خطرے کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ کے درمیان برطانیہ نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی برادری اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق بس ٹرین کے انجن میں پھنس گئی تھی اور ٹرین کے رکنے سے پہلے تقریباً ایک کلومیٹر تک گھسٹتی رہی، جس سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ زخمیوں کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد فوراً موقع پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔