Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

ایران نے حال ہی میں امریکہ کے ایک ایف-35 فائٹرجیٹ کوٹارگیٹ کا دعویٰ کیا تھا، جس کی ایمرجنسی لینڈنگ ہوئی تھی۔ اب آئی آرجی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف-16 کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے۔ یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب 28 فروری کوایران پرامریکہ اوراسرائیل نے مشترکہ طورپرحملہ کردیا تھا۔

صدر مسعود پیزشکیان نے عید الفطر اور نوروز کے موقع پر اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں بدامنی نہیں چاہتا، دشمن مسلمانوں میں اختلاف ڈال رہا ہے۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا کیونکہ وہ سب ’’بھائی‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے درمیان اختلافات ایک دشمن کی سازش ہے، جو انہیں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور دیگر شہری ڈھانچے پر ایران کے حالیہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکی قیادت نے خوش فہمی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت کے امریکی جنرل ولیم ویسٹمورلینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ فتح قریب ہے، لیکن 1968 میں ہونے والے “ٹیٹ حملے” نے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔

ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔

ماسکو نے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  سفارتی حل اور علاقائی مکالمے پر زور دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے پہلا قدم فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور میزائل حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ساتھیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی موت نے قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کا مشن پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔