Urdu Conclave 2026

Massive fire in Nigeria School: نائیجیریا کے ایک اسکول میں لگی شدید آگ،17 بچوں کی گئی جان، دو درجن سے زیادہ ہوئے زخمی

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائیجیریا میں اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات عام  بات نہیں ہیں، لیکن ماضی میں ہوئے واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو ’سیف اسکولز انیشیٹو‘ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان سفارشات کو اسکولوں اور طلباء کے تحفظ کے لیے2014 میں تیار کیا گیا تھا۔

نائرکی یا کے اسکول مں شدید آگ۔

ابوجا: شمال مغربی نائجیریا میں ایک اسلامی اسکول میں آگ لگنے سے کم از کم 17 بچوں کی موت ہو گئی۔ ملک کی ایمرجنسی رسپانس ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ یہ ہولناک حادثہ بدھ کے روز ریاست زمفارا کے ضلع کورا نمودا میں پیش آیا۔ جس وقت آگ لگی اس وقت اسکول میں 100 کے قریب بچے موجود تھے۔

ایجنسی کے مطابق سترہ بچے شدید زخمی ہو گئے ہیں، جن کامختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ آگ کس وجہ سے لگی ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایاہے ۔ حالانکہ، ایجنسی نے کہا کہ حکام نے جمعرات کے روز آگ لگنے کی وجہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ وہیں، نائجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسکولوں سے  بچوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ریگولیٹری حکام کو ہدایت کی تعمیل کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائیجیریا میں اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات عام  بات نہیں ہیں، لیکن ماضی میں ہوئے واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو ’سیف اسکولز انیشیٹو‘ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان سفارشات کو اسکولوں اور طلباء کے تحفظ کے لیے2014 میں تیار کیا گیا تھا۔

بتا دیں کہ گزشتہ ماہ نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا کے مضافات میں ایک اسکول میں امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس سے دھماکہ ہوا۔ جس میں دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read