مشرق وسطیٰ میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے الخارج کے رہائشی علاقے میں گزشتہ روز ایک پروجیکٹائل گرنے کا واقعہ سامنے آیا، جس میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بھارتی اور ایک بنگلہ دیشی شامل ہیں، تاہم سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے نے یہ خبر غلط قرار دی ہے۔ بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “یہ خوش آئند خبر ہے کہ کل شام الخارج میں پیش آنے والی افسوسناک واقعے میں کسی بھارتی کی موت نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے رابطے میں ہے۔ کاؤنسلر (سی ڈبلیو) وائی صابر کل رات الخارج گئے اور زخمی بھارتی شہری سے ملاقات کی، جس کا علاج ابھی الخارج کے ایک سرکاری اسپتال میں جاری ہے”۔
اس سے قبل الجزیرہ نے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ الخارج کے رہائشی علاقے میں پروجیکٹائل گرنے سے کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک بھارتی اور ایک بنگلہ دیشی شامل تھے۔ ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الخارج سمیت کئی علاقوں میں رڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔ الخارج میں پرنس سلطان ایئر بیس ہے، جسے امریکی فوج استعمال کرتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اس بیس پر کئی بار حملے ہوئے۔
اتوار کو سعودی دفاعی وزارت نے 15 ڈرون کو روکے جانے کی رپورٹ دی، جس میں دارالحکومت ریاض کے ڈپلومیٹک کوارٹر پر حملے کی کوشش بھی شامل تھی۔ اس دوران کویت نے اطلاع دی کہ اس کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایندھن کے ٹینک پر حملہ ہوا جبکہ بحرین نے کہا کہ ایک واٹر ڈیزلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب یو اے ای کے اماراتی دفاعی وزارت نے کہا کہ ملک کا ایئر ڈیفنس ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہا ہے اور جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ انٹرسپشن کے اثرات ہیں۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی و سلامتی کے شعبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، جبکہ بھارت کے شہری محفوظ ہونے کی تصدیق سفارتخانے نے کر دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


