بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ذریعے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچے جانے کا معاملہ اب سرحد پار بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو کے بعد پاکستان نے اس واقعے پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی، بہار میں اس معاملے کے سلسلے میں چیف منسٹر کے خلاف عدالت میں بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔
پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے تمام ذمہ دار فریقین کو اس واقعے کی سنجیدگی کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف توہین کو عام کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ اندربی نے کہا: ’’ایک سینئر سیاسی لیڈر (نتیش کمار) کے ذریعے کسی مسلم خاتون کا حجاب جبراً ہٹانا اور بعد میں عوامی طور پر اس عمل کا مذاق اڑانا نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔‘‘
مظفرپور کورٹ میں سی ایم کے خلاف شکایت
یہ تنازعہ اب بہار کی عدالت میں بھی پہنچ گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راجو نائر نے مظفرپور کی ایک مقامی عدالت میں وزیراعلیٰ نتیش کمار اور اتر پردیش کے وزیر سنجے نشاد کے خلاف شکایت دائر کی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ سی ایم کے ذریعے خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے نقاب ہٹانے کے واقعے نے مسلم خواتین کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ کانگریس لیڈر نے دونوں لیڈروں کے خلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے 18 جنوری 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس کیس میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔
پورے واقعے کا پس منظر
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پیر کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں آیوش ڈاکٹروں کو تقرری کے خطوط تقسیم کیے جا رہے تھے۔ وائرل ویڈیو اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، جب ایک خاتون ڈاکٹر اپنا تقرری کا خط لینے اسٹیج پر پہنچی تو سی ایم نے اس کا نقاب دیکھا اور پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘اس کے بعد انہوں نے حجاب ہٹانے کا اشارہ کرتے ہوئے اسے کھینچ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شرمناک واقعہ کے بعد چہار جانب بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی مذمت کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



