غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری ہے اور معصوم شہری اپنی جان گنوا رہے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ شہراوروسطی علاقے پرقبضے کی تیاریوں کے سلسلے میں وسیع فوجی مہم کے لیے ایک لاکھ تک اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس بات کا انکشاف آج جمعرات کے روز “یدیعوت آحرونوت” اخبار نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کیا۔ اس منصوبے کی منظوری اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیرنے بدھ کو دی۔ اس کے تحت شمال میں غزہ شہرپرقبضہ اوروسطی غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں حماس کی تباہی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق، آپریشن کے حتمی راستے سے متعلق مزید مشاورت آئندہ دنوں میں کی جائے گی اوراس مہم کے ذمے دارفوجی یونٹوں اوربریگیڈ کوآگاہ کیا جائے گا۔ یہ مہم غزہ شہرمیں خاص طورپرمغربی مضافات کی بلند علاقوں میں اورساتھ ہی دیگرشمالی حصوں میں 2026 تک جاری رہے گی۔ زامیرنے گزشتہ ہفتے پوری غزہ کی پٹی پرمکمل کنٹرول کے حوالے سے خبردارکیا تھا، اس کی وجہ دستیاب فوجیوں کی کمی اور پہلے سے تعینات سپاہیوں میں تھکن کی بلند سطح بتائی گئی۔ تاہم حکومت نے خطرات کے باوجود اس منصوبے کی منظوری دے دی، البتہ اس پرعمل درآمد بتدریج ہو گا۔ فی الوقت اسرائیلی افواج محصورغزہ کی پٹی کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری اوراقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پرانتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اورپانی کے وسائل کی شدید کمی اوراسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طورپرعیاں کی جا رہی ہے۔
بنجامن نیتن یاہو کا فلسطینی نقل مکانی کا اشارہ
اسرائیلی وزیراعظم بنجامین نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے “رضاکارانہ ہجرت” کے بارے میں بات چیت کو دہرایا ہے۔ نیتن یاہو نے بدھ کی شب اسرائیلی چینل 24 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ “غزہ کے باشندے آہستہ آہستہ باہر جا رہے ہیں اور میں ان ممالک کے نام نہیں بتا سکتا جو ان کی میزبانی کر رہے ہیں”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “جو ممالک غزہ کے باشندوں کے بارے میں فکر مند ہیں، انھیں چاہیے کہ اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیں”۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


