Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza border

بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اور پانی کے وسائل کی شدید کمی اور اسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طور پر عیاں کی جا رہی ہے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈروسانچزنےغزہ پرانسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اورکہا کہ غزہ میں تشدد کے چکرکوروکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اورناقابل قبول ہے اوریہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

ریزولیشن کے مطابق، اسرائیل کو آئندہ 12 ماہ کے اندر فلسطین پر قبضہ کئے ہوئے حصوں سے اپنی فوج اور لوگ ہٹانے ہوں گے۔ ساتھ ہی قبضہ کی وجہ سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لئے بھی اسرائیل پیسے اور ریسورس دے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس اس فیصلے کو نافذ کرنے کا اختیار ہے، لیکن اسرائیل کو امید ہے کہ اس کے اہم اتحادی امریکہ، اقوام متحدہ کی باڈی میں اسے ویٹو کر دے گا۔

اسرائیل کو غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تباہ کن انسانی بحران پر عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ غزہ میں صرف دو ہفتوں کے دوران 900,000 سے زیادہ فلسطینی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور اب اس کے پاس پناہ، خوراک، پانی اور ادویات کی شدید کمی ہے۔

الاقصیٰ اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ایاز الجابری نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بغیر تمام مریضوں کو موت ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے زور دے کر کہا، "یہ ایک دہشت گرد ریاست ہو گی۔ یہ 7 اکتوبر کے قتل عام کو بار بار دہرانے کی کوشش کرے گی، لیکن ہم اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔"

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے رفح میں خوراک کی تقسیم کا پروگرام سیکورٹی خدشات کے باعث معطل کردیا تھا جس سے لوگوں کے لیے ایک نیا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

رسمی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم 28 مئی کو کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت فلسطینیوں کی دیرینہ خواہش کی طرف ایک قدم ہے جو غزہ پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران پر بین الاقوامی غم و غصے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔