Urdu Conclave 2026

Rahmatullah




Bharat Express News Network


حالانکہ وقف (ترمیمی) بل، 2024 پر بات کرتے ہوئے، اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا، "ارکان پارلیمنٹ کو کسی مذہب سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو وقف بورڈ کا حصہ بنایا جائے۔

مرکزی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے وقف (ترمیمی) بل پر جس طرح سے شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں اس کے پیش نظر اس بل کو ایوان کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ بہتر غور کے لیے اسے کمیٹی کو بھیجنا مناسب ہے۔

ارجا سمٹ کے دوران، جوائنٹ سی پی لاء اینڈ آرڈر ستیہ نارائن چودھری نے ممبئی پولیس کے کام کرنے کے انداز، چیلنجز اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے کام کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم آج پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

فڑنویس نے کہا کہ  میں آپ کو صاف صاف کہہ رہا ہوں، وہ (ادھو ٹھاکرے) وہاں صرف اور صرف اقتدار کے لیے، صرف اور صرف کرسی کے لیے، صرف اور صرف وزیر اعلیٰ بننے کے لیے گئے تھے، اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔

مہاراشٹر میں بھارت ایکسپریس کے بینر تلے منعقدہ ارجا سمٹ میں مہاراشٹر بجلی بورڈ ڈائریکٹر وشواس پاٹھک نے شرکت کی اور بھارت ایکسپریس کے سوالوں کا سامنا کیا۔ انہوں نے سمٹ میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر ملک بھر میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والی ریاست ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کا نام لیے بغیر بڑا بیان دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے، ہمارے ملک کو اس سے سبق لیناچاہیے۔

ڈاکٹر لوو کنگ کوان نے کہا کہ سرجیکل روبوٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس آپریشن کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مریض بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں میں جانے کے بجائے اپنے آبائی شہر میں اعلیٰ درجے کی طبی خدمات سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

امیر جماعت نے کہا کہ ’’ احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف شیخ حسینہ کا رد عمل معاندانہ، پُرتشدد اورجابرانہ تھا جس نے صورت حال کو مزید بگاڑ دیا۔ وہاں کی موجودہ صورتحال پر جماعت اسلامی ہند تشویش کا اظہار کرتی ہے۔

پانچ اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن پر بھڑکنے والے تشدد کے درمیان انہیں نہ صرف وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا بلکہ ملک چھوڑ کر ہندوستان میں پناہ لینی پڑی۔ اس قدم کے ساتھ بنگلہ دیش میں ان کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔

بنگلہ دیش میں ریزرویشن کی آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ 5 اگست کو شیخ حسینہ کے استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہونے کے بعد مظاہرین کے ایک ہجوم نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہی حملہ کر دیا۔ بھارتی سیکیورٹی اداروں نے شیخ حسینہ کو بحفاظت واپس لانے کے لیے پہلے ہی فول پروف تیاریاں کر رکھی تھیں۔