Bharat Express DD Free Dish

Congress rejects ‘regime change’ allegations: ’’ہندوستان نہ بنگلہ دیش ہے، نہ فرانس‘‘ کانگریس نے اقتدار کی تبدیلی کی سازش کے الزامات  کیے مسترد

ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد کی حمایت نہیں۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ اس طرح کے بیانیے کے ذریعے مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، انتہا پسند، وحشی اور غیر مہذب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ یورپ میں ہونے والے احتجاج کو محض ’مسلم مسئلہ‘ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق، اس کا بالواسطہ پیغام یہ ہے کہ ہندوستان کو بھی اپنے ’مسلم مسئلے‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔

ترواننت پورم: فرانس میں ہونے والے فسادات کے پس منظر میں مبینہ وسیع تر سازش اور اس کے ہندوستان سے روابط سے متعلق مختلف رپورٹس کے درمیان کانگریس نے ہندوستان کے حالات کا فرانس اور بنگلہ دیش سے موازنہ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے پیر کو کہا کہ ہندوستان نہ بنگلہ دیش ہے اور نہ فرانس۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن پُرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تنازع کے درمیان آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن تشدد کی حمایت نہیں کرتی اور پُرامن مظاہروں پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، فرانس میں بسوں اور پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگانے جیسے واقعات کی کانگریس کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی پُرامن احتجاج میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اپوزیشن عمومی طور پر اسی طریقے کی حامی ہے۔

’اقتدار گرانا نہیں، منصفانہ انتخابات ہمارا مطالبہ‘

اقتدار کی تبدیلی کی سازش کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے کو ’ریجیم چینج‘ یعنی اقتدار کی تبدیلی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کے نام حذف کیے جانے کا ہے۔ تھرور نے کہا، ’’ہم آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آج تشویش کی بات یہ ہے کہ ایک انتہائی پریشان کن، بے ضابطہ اور جزوی طور پر غیر قانونی عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اسی لیے ہم اس عمل کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئینی معاملہ ہے، کسی حکومت کو گرانے یا اقتدار کی تبدیلی کی کوشش نہیں۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل کی شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا ہی اپوزیشن کی بنیادی مانگ ہے۔

پون کھیڑا نے ہندوستان اور یورپ کے حالات کا موازنہ مسترد کیا

کانگریس کے رکن راجیہ سبھا پون کھیڑا نے بھی ہندوستان میں ہونے والے احتجاج کا یورپ کے حالات سے موازنہ کرنے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور یورپ کے حالات کا موازنہ دو بالکل مختلف چیزوں کو ایک جیسا قرار دینے کے مترادف ہے۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ اس طرح کے بیانیے کے ذریعے مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، انتہا پسند، وحشی اور غیر مہذب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ یورپ میں ہونے والے احتجاج کو محض ’مسلم مسئلہ‘ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق، اس کا بالواسطہ پیغام یہ ہے کہ ہندوستان کو بھی اپنے ’مسلم مسئلے‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ ہندوستان میں بھی ایسے طریقۂ کار کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق، دہلی میں حالیہ احتجاج کے دوران سنگھ سے وابستہ بعض افراد مسلمانوں کا روپ دھار کر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ اس طرح کے الزامات کا مقصد تعلیم، انتخابی شفافیت، جواب دہی اور انصاف کے لیے ہونے والی پُرامن تحریکوں کو بدنام کرنا اور ہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور دائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ الزامات کانگریس رہنما نے عائد کیے ہیں۔

کرن رجیجو نے ہندوستان میں بھی سازش کا الزام لگایا

کانگریس کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزیر کرن رجیجو نے الزام لگایا کہ فرانس اور بنگلہ دیش جیسے واقعات سے ملتی جلتی سازش ہندوستان میں بھی رچی گئی تھی۔ رجیجو نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تشدد اور فرانس میں فسادات، آتش زنی اور لوٹ مار جیسے واقعات کے طرز پر ہندوستان میں بھی سازش تیار کی گئی۔ ان کے مطابق، ہندوستان مخالف گروہوں اور بعض سیاست دانوں نے نوجوانوں کو اکسانے اور سڑکوں پر تشدد پھیلانے کے لیے مبینہ طور پر ایک دوسرے سے سازباز کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی صرف انتخابات کے ذریعے ممکن ہے، کسی بیرونی طاقت یا جارج سوروس کے ذریعے نہیں۔

فرانس کے احتجاجی نیٹ ورک سے متعلق رپورٹ کا حوالہ

دریں اثنا، فاکس نیوز ڈیجیٹل کی 9 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں فرانس کی طلبہ تحریک اور اس کے حامی نیٹ ورک سے وابستہ 50 تنظیموں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ کمیونسٹ، سوشلسٹ اور انتہائی بائیں بازو کے گروہ اسکولوں کے حالات سے متعلق مظاہروں کو وسیع تر سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان 50 تنظیموں میں سے صرف 15 طلبہ یا نوجوانوں کے گروہ ہیں، جبکہ باقی 35 میں مزدور یونینیں، کمیونسٹ اور سوشلسٹ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، شہری حقوق کے گروہ اور دیگر سماجی و سیاسی تنظیمیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ نیٹ ورک صرف فرانس تک محدود نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، یونان، برازیل اور ہندوستان سمیت کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ ان تنظیموں پر مظاہروں کے لیے حمایت جمع کرنے، ہڑتالوں کی اپیل کرنے اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے احتجاج کو نمایاں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں فرانس میں قائم تنظیم ’انڈین الائنس پیرس‘ کا بھی ذکر کیا گیا، جو طلبہ، محققین اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس تنظیم نے سوشل میڈیا پر فرانس کے مظاہروں کی تشہیر کی اور انہیں ہندوستان میں طلبہ کے احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read